حوثیوں کے قبضے میں لیا گیا بحری جہاز ' گلیکسی لیڈر' سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر سے قبضے میں لیے گئے تجارتی جہاز کو سیاحوں کےلیے ایک سیاحتی دلچسی کی چیز بنا دیا ہے ۔ حوثیوں کے زیر قبضہ بحیر احمر کی بندرگاہ السلف میں کھڑے کیے گئے اس گلیکسی لیڈر کو دیکھنے روزانہ کی بنیاد پر سیاح آنے لگے۔

بندرگاہ کے منتظمین حوثیوں نے گلیکسی لیڈر کے فرش پر امریکی اور اسرائیلی جھنڈے بچھا کر ان جھنڈوں کے سیاحوں کے قدموں تلے روندے جانے کا بندوبست کر دیا۔

گلیکسی لیڈر کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں کا حوثی جہاز کے ڈیک پر استقبال کرتے ہیں۔ تاہم سیاحوں کو ڈیک سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

گلیکسی لیڈر کو دیکھنے آنے والے سیاح جہاز تک پہنچنے کے لیےمچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونےوالی کشتیوں کے زریعے پہنچتے ہیں۔

سیاحوں کے پہنچنے پر حوثیوں کے مخصوص فتح مندی والے ترانے بجائے جاتے ہیں۔ حوثیوں کے میڈیا آفیسر سمیر الرابط نے کہا گلیسی لیڈر جہاز سیاحوں کے لیے رغبت کا غیر معمولی ذریعہ بن چکا ہے۔

اہم بات ہے کہ گلیکسی لیڈر کے زیر حراست عملے کے ارکان اپنے خاندان کے افراد سمیت محدود حد تک رابطے کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

ان کی رہائی کے لیے کئی ملکوں کی طرف سے آواز بھی اٹھائی جارہی ہے۔ عملے کے ارکان کا تعلق بلغاریہ، یوکرین، فلپائن ، میکسیکو اور رومانیہ سے ہے۔ جہاز جاپان کو چارٹر کیا گیا تھا۔ ینپون یوسین نے یاد رہے بہاماس کے پرچم والے اس کار بردار جہاز کو 19 نومبر کو یمن کے شمال سے قبضے میں لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں