فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کو غیر مسلح کرنا ناگزیر ہے اور اس کی ضمانت صرف اسرائیلی فوج دے سکتی ہے: نیتن یاھو

اسرائیلی وزیراعظم کا حماس کی قید میں یرغمالیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے جانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل کی شام کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کو غیر مسلح ہونا چاہیے۔ صرف اسرائیلی فوج ہی اس کی ضمانت دے سکتی ہے اور کوئی بھی بین الاقوامی مداخلت ناقابل قبول ہے۔

نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "حماس کے بعد کیا ہو گا؟ اس کے بارے میں ہم ایک لفظ میں بات کریں گے’غزہ کو غیر مسلح ہونا ہے‘۔ صرف اسرائیلی فوج ہی اسے غیر مسلح کرنے کی ضمانت دے سکتی ہے اور کوئی بین الاقوامی طاقت اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہو سکتی"۔

ایک اور تناظر میں نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے دوران حماس کی طرف سے واپس جانے والے قیدیوں سے ملاقات کے دوران جنسی حملوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ "میں نے سنا اور آپ نے بھی سنا۔ ہمارے لوگوں کو حماس کی قید میں غیر معمولی جنسی حملوں اور عصمت دری کا نشا نہ بنایا گیا‘‘۔

غٖزہ میں اسرائیلی فوج
غٖزہ میں اسرائیلی فوج

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے کہا ہے کہ "حماس غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول کھو رہی ہے اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں کامیابی سے پیش قدمی کررہی ہے اور فضائی، زمینی اور سمندری اطراف سے ہونے والے حملے موثر ثابت ہورہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے منگل کے روز مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کی طرف سے کی جانے والی تشدد کی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی میں صرف پولیس اور فوج کو طاقت کے استعمال کا حق حاصل ہے۔

گیلنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ "بدقسمتی سے انتہا پسندوں کی طرف سے تشدد کی کارروائیاں ہوتی ہیں جن کی ہمیں مذمت کرنی چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل ایک قانون کی ریاست ہے، تشدد کے استعمال کا حق صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہیں حکومت ایسا کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ یہ اختیار اسرائیلی فوج، اسرائیلی پولیس، داخلی سلامتی ایجنسی (شن بیٹ) اور اس طرح کے دوسرے سرکاری سکیورٹی اداروں کو حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں