فلسطین اسرائیل تنازع

نیتن یاہو سے یرغمالیوں کے اہل خانہ کی ملاقات کا تلخی اور ناراضگی پر اختتام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کے نمائندہ وفد نے منگل کے روز اس وقت ملاقات کی جب یرغمالیوں کو حماس کی قید میں پورے دو ماہ مکمل ہو گئے۔ مگر اسرائیلی حکومت نے ان کی رہائی کی کوششوں کو بیچ میں چھوڑ کر پھر سے غزہ پر بمباری شروع کر دی ہے۔ جبکہ یرغمالیوں کے خاندان مل کر ' انہیں واپس لاؤ ' مہم چلا رہے ہیں۔

مبصرین میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ عدالت میں نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کیسز کی سماعت کی وجہ سے نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی ترجیحات کا رخ بدل سکتا ہے۔ یاہو اور ان کی حکومت کو ایسا ماحول چاہیے جو ان کی حکومت کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچائے رکھے۔ اس تناظر میں جنگ ایک اہم سہارا بن سکتی ہے، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کےساتھ پھر سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا نہیں۔

واضح رہے ایک ہفتے پر محیط جنگ بندی کے دنوں میں ایک سو سے زائد یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوئی جبکہ 137 یرغمالی اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔ جن خاندانوں کے افراد رہائی پانے سے رہ گئے ہیں ان کی ناراضگی فطری ہے۔ ان کے خیال میں نیتن یاہو ان کے پیاروں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کی بجائے محض زبانی بیانات جاری کرتی رہتی ہے۔

یہی بات ایک یرغمالی کے والد نے اس وقت کہے جب ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے ایک گھسی پٹی گفتگو ملاقاتیوں کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ' میں نے یرغمالیوں کے بارے میں جو کہانیاں سنی ہیں ان سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے ان کے بھوکا اورپیاسا رہنے کی کہانیاں سنی ہیں، ان کو جسمانی اور ذہنی طور ہر تشدد اور توہین کا نشانہ بنانے کے بارے میں سنا ہے، یرغمالی عورتوں کی عصمت دری کا سنا ہے۔'

یہ گردان سن کر یرغمالیوں کے اہل خانہ اور رشتہ داروں میں سے ایک ڈینی میران کے بیٹے کو سات اکتوبر کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ نیتن یاہو کی یہ روایتی گفتگو سننے کے بعد ملاقات کے دوران اٹھ کر باہر چلے گئے ، ان کا کہنا تھا ' مجھے ایسا لگ رہا تھا ہماری انٹیلی جنس کی بے عزتی کی جا رہی ہے۔'

ڈینی میران نے چینل 13 سے بات کرتے ہوئے کہا مجھے ان تفصیلات کی کوئی ضرورت نہیں جو یاہو بول رہے تھے، ان کی کارکردگی انتہائی بری ہے، وہ ہمارے ساتھ توہین آمیز مذاق کر رہے ہیں۔'

ڈینی میران مزید کہہ رہے تھے ' یاہو ہمیں سنا رہے تھے انہوں یہ کیا ، انہوں نے وہ کیا ، لیکن یہ سب باتوں کی حد تک ہے انہوں نے عملی طور پر اقدامات نہیں کیے۔'

یاد رہے یاہو اور ان کے وزیروں کے ساتھ یہ ملاقات رہا شدہ یرغمالیوں کے قید کے دنوں کے تجربات سننے کے لیے کی گئی تھی۔ ایک گروپ نے بے نامی قسم کے حوالوں کے ساتھ قید کی پریشانیوں کا ذکر ترتیب سے نکتہ وار لکھ رکھا تھا۔

ان لکھے ہوئے تجربات اور دکھوں کے ساتھ کسی یرغمالی کا نام موجود نہ تھا کہ یہ کس کے ساتھ معاملہ پیش آیا۔ لیکن اس وجہ سے ان خاندانوں کے جذبات اور خیالات دب گئے تھے جو اپنوں کی رہائی کے لیے مطالبات لے کر آئے تھے۔

جینفر ماسٹر جس کا شراکت دار اینڈری یرغمال بنا ہوا ہے نے یاہو سے ہونےوالی ملاقات کو بڑی چیخ چیخ کر بولنے والی اور ہنگامہ خیز قرار دیا ، اس کے بقول لوگ چیخ چیخ کر شور بپا کیے ہوئے تھے۔

جنیفر ماسٹر نے چینل 12 سے بات کرتے ہوئے کہا ' ہم سب اس کوشش میں ہیں کہ ہمارے پیارے واپس گھروں کو لوٹ آئیں، لیکن وہاں کچھ ایسے ہین انہیں خواتین یرغمالیوں اور بچوں کی فکر زیادہ ہے، لیکن ہم ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مردوں کو بھی واپس لاؤ، انہیں بھی واپس لانا ضروری ہے۔ ہم انہیں بھول نہیں سکتے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں