فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج خان یونس کے قلب میں لڑ رہی ہے: اسرائیلی فوجی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج کی طرف سے بدھ کو رات گئے بتایا گیا ہے کہ یہ اب غزہ خان یونس کے علاقے کے قلب تک گھس چکی ہے اور لڑائی کر رہی ہے۔ ہمارے فوجی خان یونس کے وسط میں پہنچ کر شہر میں ' تارگٹد ' کارروائیاں کر رہے ہیں۔' یہ وہ علاقے ہیں جو حماس کی حکومت کی علامت کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔

فوج کے بیان میں رات گئے کہا گیا ' ہمارے فوجیوں نے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے، ان کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے اور ان کا اسلحہ تلاش کر لیا ہے۔'

ایک مقامی رہائشی عمل مہدی نے کہا ہم اسرائیل کے رات کو کیے گئے ایک حملے کے دوران تباہ و برباد ہو گئے ہیں، ہم میں سے کسی کو اس صورت حال سے نکلنے کے لیے مسئلے کا کوئی حل چاہیے۔ '

خان یونس میں اس کارروائی سے پہلے شمالی غزہ تباہی کے بعد ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی آگ برسانے والی بمباری کے نتیجے میں 19 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اب اسرائیل نے غزہ کے جنوب پر توجہ مرکوز کی ہے۔ خان یونس کی گلیاں بدھ کے وز تقریباً خالی ہو گئی تھیں، لوگ اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے پناہ کی تلاش میں تھے، جبکہ لاشیں اور زخمی فلسطینی ہسپتالوں میں پڑے تھے۔

ادھر غزہ میں وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 16248 ہو چکی ہے۔ جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔

6 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد کے قریب سے لی گئی ایک تصویر میں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران دھواں اُڑتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)
6 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد کے قریب سے لی گئی ایک تصویر میں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران دھواں اُڑتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)

اسرائیلی ترجمان ایلون لیوی نے اس سلسلے میں رپورٹرز سے بات چیت کے دوران کہا ' ہم بھی اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کا خاتمہ اب اسی صورت ممکن ہے کہ یہ یقین ہو جائے کہ حماس کبھی ہمارے لوگوں پر دوبارہ حملہ نہں کر سکے گی۔ '

یاد رہے اسرائیل اپنے 138 یرغمالیوں کی رہائی کے علاوہ حماس کے مکمل خاتمے کا پہلے ہی تہیہ کیے ہوئے ہے۔

لیکن فلسطینیوں کے قتل عام پر عالمی برادری میں تشویش ہے۔ اسی طرح زیر محاصرہ غزہ میں خوراک، پانی اور دوسری ضروری اشیاء کی رسائی نہ ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے۔

وزارت صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش کا کہنا ہے 'اسرائیلی بمباری کے ذریعے غزہ کا پورا شمالی حصہ اس وقت ہر طرح کی طبی سہولتوں سے محروم کیا جا چکا ہے۔

اسی طرح جمعہ کے روز سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بھی رک چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقو ق کے شعبے کے سربراہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور یرغمالیوں کی فوری رہائی کی جائے۔ والکر ترک کے مطابق غزہ میں خوف گہرا ہوتا جارہا ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا 'غزہ میں شہریوں پر انتھک انداز میں بغیر وقفے کے بمباری جاری ہے، اس طرح شہریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ میں اس بمباری اور دشمنے کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہوں۔'

فلسطینی بچے 6 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک خیراتی گروپ کی طرف سے فراہم کردہ عطیہ کے مقام پر کھانا جمع کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
فلسطینی بچے 6 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک خیراتی گروپ کی طرف سے فراہم کردہ عطیہ کے مقام پر کھانا جمع کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی بدھ کے روز کہا ' 24 گھنٹوں کے دوران اس نے 250 مقامات پر بمباری کی ہے اور شہری آبادیوں کے مرکز میں حماس کے اسلحہ ڈپووں پر قبضہ کیا ہے۔'

اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق ایک بڑا اسلحہ ڈپو شمالی غزہ میں ایک سکول اور ہسپتال کے قریب ملا ہے۔ اس ڈپو میں سینکڑوں آر جی پی میزائل اور لانچرز موجود تھے، مختلف قسم کے ٹینک شکن میزائل تھے اور بارود کے علاوہ ڈرونز شامل تھے۔ '

حماس سے متعلق ایک ذریعے کے مطابق ان کے جنگجوو اسرائیلی فوکے مقابل لڑ رہے ہیں تاکہ اسرائیلی فوج کو خان یونس میں داخل ہونے سے روک سکیں۔ شہر کے مشرقی حصے میں اسرائیلی بمباری سے درجنوں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج خان یونس سے لوگوں کو نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔

حسن القاضی خان یونس کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ہم رفح کی طرف آگئے ہیں کیونکہ پورا شہر بد ترین اسرائیلی بمباری سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ بے شمار لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور بہت سے اپنے لاپتہ ہو چکے بچوں کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں