اسرائیل جان بوجھ کر زخمیوں کو گرفتار کرتا ہے اور ان پر تشدد کرتا ہے: ہلال احمر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے انتباہ کے بعد فلسطینی ہلال احمر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں 60 فیصد زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے پٹی سے باہر لے جانے کی ضرورت ہے۔

فلسطینی ریڈیو نے ہلال احمر کے حوالے سے کہا ہے کہ غزہ صحت اور ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے۔ صحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اسے پٹی سے باہر کے کارکنوں کی مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے عملے کے 280 ارکان غزہ میں مارے گئے، جب کہ خان یونس ایمبولینس سینٹر کے ڈائریکٹر سمیت دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز جان بوجھ کر بیماروں اور زخمیوں کو گرفتار کر رہی ہیں جن میں ہماری ٹیموں کے پیرا میڈیکس بھی شامل ہیں۔

فلسطینی ہلال احمر نےبتایا کہ فوری طور پر ایندھن لانے کی ضرورت ہے تاکہ ایمبولینس کے عملے اور ڈاکٹروں کو منتقل کیا جا سکے۔

اسرائیلی حکام نے کل بدھ کی شام غزہ میں ایندھن کی روزانہ کی مقدار میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر تباہی اور وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کم از کم مقدار فراہم کی جائے گی"ْ۔

بین الاقوامی وارننگ

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو انسانی بنیادوں پر نظام کی تباہی کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔ عالمی برادری نے اس بات پر زور دیا گیا کہ صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور مجموعی طور پر فلسطینیوں پر ممکنہ طور پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق یکم دسمبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان صرف 7 دن تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے پٹی میں پہلے سے ہی خراب انسانی حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں