اسرائیل حماس کی سرنگوں کو سمندری پانی سے بھرنے کی تیاری کر رہا: تصاویر آگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے حماس کی سرنگوں کو سمندری پانی سے بھرنے کی تیاری شروع کردی۔ اس حوالے سے پہلی مرتبہ تصاویر بھی جاری کردی گئی ہیں۔

تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے نیچے حماس کے زیر استعمال سرنگوں کو سمندری پانی سے بھرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اسرائیل نے ساحل سمندر کے پناہ گزین کیمپ کے شمال میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر کم از کم پانچ پمپوں کی تنصیب مکمل کر لی ہے۔ یہ پمپ فی گھنٹہ ہزاروں کیوبک میٹر پانی منتقل کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ پمپ سرنگوں کے 300 میل کے نیٹ ورک کو ہفتوں کے اندر اندر بہا سکتے ہیں۔ اسرائیل کا یہ منصوبہ حماس کے جنگجوؤں کو سرنگوں سے نکالنا اور بحیرہ روم کے سمندری پانی کی مدد سے اس نظام کو ناقابل عمل بنا دینا ہے۔

یرغمالی بھی ہلاک ہوسکتے

اسرائیلی فوج کی طرف سے شائع کی گئی تصاویر میں درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کے ریتیلے ساحلوں پر سیاہ پائپوں کی ایک سیریز لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ویڈیو میں بھی اسرائیلی فورسز کو زیر زمین پائپوں پر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

برطانوی ڈیلی میل کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پیر کو یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اسرائیل نے بڑے پمپوں کا ایک ایسا نظام تیار کر لیا ہے جو غزہ کی پٹی کے نیچے حماس کی سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک کو سمندری پانی سے بھرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ یہ حربہ اسرائیل کو سرنگوں کو تباہ کرنے اور ان کے اندر چھپے حماس کے کسی بھی جنگجو کو مارنے کے قابل بنا دے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا اسرائیل 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو وصول کرنے سے پہلے پانی کے ان پمپس کو استعمال کرنے پر غور کرے گا یا نہیں۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ سرنگوں میں سیلاب لانے کا کوئی بھی اقدام یرغمالیوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے حماس نے پہلے ہی بتایا تھا کہ اس نے یرغمالیوں کو محفوظ مقامات اور سرنگوں میں چھپا رکھا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی طرف سے شائع فوٹیج میں اسرائیلی فوجیوں کو پائپ بھرتے اور زیر زمین پمپوں پر کام کرتے دکھایا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ ہرزی ہیلیوی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کا مقصد حماس کے سرنگ نیٹ ورک میں سیلاب لانا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک اچھا خیال ہے۔

حماس جنگجوؤں کا فرار ممکن

ہیلیوی نے رپورٹ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہم غزہ میں بہت سے زیر زمین انفراسٹرکچر دیکھ رہے ہیں۔ ہم جانتے تھے کہ وہاں بہت کچھ ہو گا۔ ہیلیوی نے کہا کہ مقصد کا ایک حصہ اس انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہے۔ ہمارے پاس [سرنگوں سے نمٹنے کے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں تباہی کے لیے دھماکہ خیز مواد، حماس کے کارکنوں کو ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرنگوں کا استعمال کرنے سے روکنے کے دیگر ذرائع شامل ہیں۔

اخبار نے کہا کہ اسرائیل نے سب سے پہلے گزشتہ ماہ امریکہ کو اس آپشن سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکام نہیں جانتے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کے کتنی قریب ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے سرنگوں میں سیلاب کے منصوبے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز مختلف فوجی اور تکنیکی آلات کا استعمال کرتے ہوئے مختلف طریقوں سے حماس کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

زیر زمین لڑائی مہلک ثابت ہوسکتی

سرنگوں کو پانی سے ناکارہ بنانے کے حوالے سے رپورٹ کے متعلق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کے لیے سرنگوں کو ناکارہ بنانا سمجھ میں آتا ہے۔ اسرائیل ایسا کرنے کے لیے کئی طریقے تلاش کر رہا ہے۔ حماس کے جنگجو مضبوط سرنگوں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک میں کام کر رہے ہیں۔ کچھ سرنگیں 40 فٹ زمین کے اندر دبی ہوئی ہیں جن میں جنگجو گھات لگا کر چھپ سکتے ہیں یا ان سرنگوں میں بوبی ٹریپ ہوسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اپنی مرضی سے غزہ پر بمباری کر سکتا ہے اور کچھ سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے بنکر کو تباہ کرنے والے گولہ بارود کا استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن آئی ڈی ایف کو پھر بھی "غزہ میٹرو" کو ختم کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کرنے کی ضرورت ہو گی تاکہ حماس کے ہر جنگجو کو بے اثر کر سکے۔ اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ زیر زمین لڑائی ایک مہلک کاروبار کے طور پر جانی جاتی ہے۔ خاص طور پر جب اسرائیلی فوجی بھاری ہتھیاروں سے لیس حماس کے جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں جو چھپنے کے لیے ہر مقام کو جانتے ہیں اور انہیں راکٹوں، دستی بموں اور رائفلوں تک رسائی بھی حاصل ہے۔

وال سٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج کے لیے خون کی ہولی سے بچنے کا ایک طریقہ سرنگوں میں سیلاب لانا ہے ۔ اسرائیلی فوج ایسے اقدام پر غور بھی کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ماہ اپنے قریبی اتحادی امریکہ کو اس آپشن کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

غزہ کے نیچے سرنگوں کو سمندری پانی سے بھرنے کے مشن سے وہاں چھپے حماس کے جنگجوؤں کو ختم کرنے کا امکان موجود ہے تو ساتھ ہی حماس کے زیر حراست 138 یرغمالیوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آیا اسرائیل تمام یرغمالیوں کی رہائی سے قبل ہی پانی کے ان پمپوں کو استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں