اسرائیل نے حماس کا مقابلہ کرنے کے لیے سویلین ٹیموں کو مسلح کرنا شروع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جیسے ہی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہو رہی ہے اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے سویلین ٹیموں کو مسلح کرنے کی استعداد کار بڑھا دی ہے جن کا مشن کسی بھی حملے یا دراندازی کا جواب دینا ہے۔

12 سویلین ڈویژنز

ٹائمز آف اسرائیل اخبار کے مطابق فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ 12 مختلف سویلین ڈویژنوں کو ہتھیار فراہم کریں گے، جن میں سے پہلا "غزہ کے اطراف کا " ڈویژن ہو گا۔

اخبار نے جمعرات کوکہا کہ فوج اور وزارت دفاع نے کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے میں مدد کے لیے سویلین ٹیموں کو مسلح کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹیمیں اکثر دراندازی اور حملوں کا سامنا کرنے والی صف اول کی ٹیمیں ہوں گی۔ آباد کار غزہ کی سرحد کے قریب سات اکتوبرکو حماس کے جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اسلحہ کی تقسیم کا عمل غزہ کی پٹی سے ملحقہ علاقوں میں شروع ہو گا، جہاں وہ ہفتہ وار 12 ٹیموں کو ساز و سامان فراہم کریں گے۔ اس پروگرام میں آخر کار اسرائیل کی تمام رہائشی کمیونٹیز بھی شامل ہوں گی۔

یہ اعلان وزارت ہوم لینڈ سکیورٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایلیزر روزنبام کی طرف سے ہفتہ قبل سیکڑوں رضاکار سکیورٹی ٹیموں کو حفاظتی جیکٹس اور ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ ہزاروں ہتھیاروں کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی حکام اور آباد کاروں نے اس وقت یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 7 اکتوبر کے حملوں کی تکرار کو روکنے کے لیے عام شہریوں میں ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ضروری ہے۔

34 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے امریکی ہتھیاروں کے مینوفیکچررز سے 34 ملین ڈالر مالیت کی نیم خودکار اور خودکار رائفلز کی درخواست کی تھی لیکن ان تینوں قسطوں کے لیے وزارت خارجہ کی منظوری اور کانگریس کے نوٹیفکیشن کی ضرورت ہے۔

اسرائیل نے کہا کہ یہ رائفلیں پولیس استعمال کرے گی لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ یہ عام شہریوں کو ہتھیار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں