تمام فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دیدی جائے: اسرائیلی وزیر پھر سٹپٹا گیا

فلسطینی قیدیوں کو میدان میں پھانسی دیدی جائے، مزید قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہ کیا جائے: اخبار سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایٹم بم کے استعمال سے غزہ میں نسل کشی کے مطالبے کے چند دن بعد اب پھر اسرائیلی وزیر سٹپٹا گیا۔ صہیونی ریاست کے ثقافتی ورثہ کے وزیر امیچائی یاہو نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔

امیچائی یاہو عبرانی اخبار "یدیوت احرونوت" سے القدس میں فائرنگ حملے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو "میدان میں پھانسی" دینے اور مستقبل میں قیدیوں کے تبادلے کے کسی بھی معاہدے کو روکنے کا مطالبہ کردیا۔

اخبار کے مطابق چند روز قبل القدس میں ہونے والے اس حملے کے دوران اسرائیلی پولیس نے غلطی سے ایک اسرائیلی آباد کار ویل کاسٹل مین کو ہلاک کر دیا تھا جو حملہ آوروں کو مارنے کیلئے مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس جنگ میں شہری وہی ہیں جو صحیح طریقے سے برتاؤ کرتے ہیں اور وہی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ہمیں ان پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اس واقعہ میں خرابی ہوئی اور یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔

اسرائیلی وزیر نے عرب اور بین الاقوامی غصے کو جنم دیا تھا جب اس نے پہلے کہا تھا کہ غزہ پر ایٹمی بم پھینکنا ایک ممکنہ حل ہے۔ غزہ کی پٹی کو روئے زمین پر باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اسرائیل کو وہاں دوبارہ بستیاں قائم کرنا ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں