حزب اللہ کو سرحد سے دور رکھنے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال میں دھکیلنے کے لیے اپنے تمام ذرائع بشمول فوجی ذرائع استعمال کرے گا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس اقدام کا مقصد سفارتی تصفیہ تک پہنچنا ہے۔

گیلینٹ نے لبنانی سرحد کے قریب واقع میئرز اور ٹاؤن کونسلوں کے سربراہوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں عہد کیا کہ گذشتہ سات اکتوبر کوحماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد بے دخل کیے گئے اسرائیلی اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے جب تک حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال کی طرف دھکیل نہیں دیا جاتا۔

انہوں نے نہاریہ قصبے میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہا کہ اسرائیل کے لیے بہترین آپشن یہ ہے کہ وہ ایک سفارتی تصفیہ تک پہنچ جائے جو قرارداد 1701 کے نفاذ کی طرف لے جائے، جس نے 2006 میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔

لبنان سرحد کے قریب اسرائیلی فوج
لبنان سرحد کے قریب اسرائیلی فوج

اخبار کے مطابق انہوں نے وضاحت کی کہ اگر سفارت کاری کامیاب نہیں ہوتی ہے تو اسرائیل حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال میں پیچھے ہٹانے کے لیے فوجی کارروائیوں سمیت "اپنے اختیار میں تمام ذرائع استعمال کرے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے جنوب میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے سے روکتی ہے، جو لبنان اسرائیل سرحد کے شمال میں تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن حزب اللہ باقاعدگی سے سرحد کے قریب کے علاقوں سے اسرائیل پر حملے کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں