دمام کے ساحل پر پانی میں تیرتا ڈھانچہ کیسا ہے اور اسے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ ڈاٹ نیٹ کوذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کے بارڈر گارڈ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے جس کے ذمہ دمام کے ساحل پر تیرتے ہوئے سمندری جہاز کےایک ٹکڑے کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہے۔

ذرائع نےکہا کہ نیشنل سینٹر فار انوائرمنٹل کنٹرول اینڈ کمپلائنس اور بارڈر گارڈ اسے غیر مجاز جگہ پرہونے کی وجہ سے وہاں سے ہٹانے کے لیے کام کرے گا۔ یہ سرگرمی تفریحی منصوبوں سے متعلق ہے اور اس ڈھانچے کے بارے میں پچھلے ماہ کی چوبیس تاریخ کو ایک الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ تیرتا ہوا جہاز ایک "ڈرلر" ہے۔ اسے ایک ڈرلنگ رگ کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا جسے اکثر زیرآب وسائل کی دریافت یا سائنسی مقاصد کے لیے آف شور ڈرلنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسے کنوؤں کی دیکھ بھال کے کاموں کو انجام دینے کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کیسنگ اور پائپ لگانے کے عمل یا دیگر تنصیب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دمام میں واٹر فرنٹ پر 15 سال باقی رہنےکے بعد تیرتے جہازکے مالک کے پاس اپنی ملکیت ثابت کرنے اوراس کے نتیجے میں ہونے والے طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے 30 دن سے بھی کم وقت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں