سعودی عرب کی اسماء جس نے نابینا پن کو ہمت سے شکست دے کر اپنا کیریئر بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی ایک نوجوان لڑکی اسماء الکاف کا شمار مملکت کے نابینا افراد میں ہوتا ہے مگر اس نے اپنے نابینا پن کو اپنی صلاحیتوں اور منزل کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنے دیا۔

اسماء الکاف اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد ایک رضا کار بھی ہیں جو سماجی خدمت کے لیے کوشاں ہیں۔

اسماء الکاف نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ "مجھے چھوٹی عمر میں ہی بصری مسائل کا سامنا تھا۔ جیسے ہی میں ہائی سکول پہنچی میری بینائی ختم ہو گئی۔ میں نے بینائی کے ساتھ زندگی اور اپنے دل کی تمنائیں بھی کھو دیں اور میں نے ہار مان لی۔ میری زندگی روشنی سے اندھیرے میں بدل گئی تھی۔

اس نے مزید کہا کہ "14 سال کی مایوسی اور منفی احساسات کے بعد مجھے جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں ایک تربیتی کورس میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں مجھے منیرہ نامی رضاکار سے ملنے کا موقع ملا جس نے میری زندگی ایک بار پھر منور کردی‘‘۔

اسماء الکاف نے مزید کہا کہ "اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی تعلیم مکمل کی ہے؟ کیا آپ طالبہ ہیں یا ملازمت کرتی ہیں؟ میں نے جواب دیا نہیں، اس نے کہا کہ کیا آپ اپنی تعلیم مکمل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں؟ تو میں نے اس سے کہا کہ میں میرے پاس سرٹیفکیٹ نہیں ہے، کیونکہ میرا سرٹیفکیٹ پرانا سمجھا جاتا ہے۔میں نے قابلیت کا ٹیسٹ نہیں دیا ہے۔ شاید میں یونیورسٹی میں پڑھنے کی شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ خاص طور پر چونکہ میں نابینا ہوں۔ تاہم منیرہ میری آنکھوں کے آگے سے پردہ ہٹا دیا اور کہ روشنی بصارت میں نہیں بلکہ بصیرت میں ہوتی ہے‘‘۔

اس کے بعد منیرہ نے اسماء الکاف کے طریقہ کار کو مکمل کرنے اور اسے شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں رجسٹر کرانے میں اس کی مدد کی۔ اس کے بعد اسماء نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اور علم نفسیات میں یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

اسماء الکاف نے اس کے بعد رضاکارانہ کام کے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ وہ یونیورسٹی میں رضاکار اور سپیشل نیڈز کلب کی رہ نما بن گئی۔ اس نے یونیورسٹی کے اندر اور باہر رضاکار ٹیموں میں حصہ لیا۔ اسماء الکاف کی بینائی سے محرومی کے باوجود ہمت اور حوصلے کی داستان بلا شبہ نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں