لاڈلی کتیا کےہمراہ حماس کی سرنگ میں قید کاٹنے والی میا کے دن کیسے گذرے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر چند روز قبل ریڈ کراس کے حوالے کی گئی ایک اسرائیلی لڑکی اور اس کی کتیا کو دنیا بھر میں بھرپور کوریج ملی۔

سترہ سالہ میا کو سات اکتوبرکو حماس کے جنگجو اس کی لاڈلی کتیا سمیت پکڑ کرغزہ کی ایک سرنگ میں لے آئے تھے۔

17 سالہ میا لیمبرگ نے اپنی چھوٹی کتیا "بیلا" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "یہ سفر ہم دونوں کے لیے شاندار تھا۔ اس کی کتیا کو ساتھ رکھنے سے اسے اس تجربے سے گذرنے میں مدد ملی‘‘۔

میا نے کہا کہ اس کی کتیا اس جگہ کے ارد گرد گھوم رہی تھی جہاں انہیں دوسرے قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ وہ سارا وقت پرسکون رہتی‘‘۔

"میں بہت خوش ہوں"

اپنی کتیا کے اس جگہ کے ارد گرد گھومنے کے بارے میں جہاں اسے رکھا گیا تھا میا نے کہا کہ "مجھے اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہ اس جگہ کو زیادہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کرے"۔

اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ"میں بہت خوش ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ یہ سفر کیا۔ میں کہتی ہوں کہ ’تم سے یہاں سے غزہ تک محبت کرتی ہوں"۔ میا کے یہ الفاظ اپنی پیاری کتیا سے بے پناہ محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو میں اس نے اشارہ کیا کہ وہ خوش قسمت ہے کیونکہ اس کی کتیا ہر وقت پرسکون رہتی ہے۔ قید کے دوران بھی وہ پرسکون رہی اور اس کی جسمانی صحت ٹھیک ہے۔

پاجامہ جیکٹ کے نیچے

میا کے والد موشے لیمبرگ جو انٹرویو میں موجود تھے نے کہا کہ ان کی بیٹی نے کتیا کوساتھ لے لیا تھا کیونکہ وہ اسے پیچھے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ "وہ اپنی کتیا کے بارے میں فکر مند تھی کہ اگر وہ اسے پیچھے چھوڑ دے تواس کا کیا ہوگا؟۔ اس نے کتیا کو اپنے پاجاما کے نیچے رکھ دیا جب وہ گاڑی میں سوار ہوئی تو کتیا اس کے ساتھ تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "پھر وہ انہیں غزہ لے گئے اور وہ سرنگوں سے گذرے، اور کتیا سارا وقت اس کے ساتھ تھی۔ جب وہ سرنگ سے باہر آئے تو انہیں سیڑھیاں چڑھنا پڑیں اور پھر حماس کے رکن نے کتیا کو دیکھ لیا۔ اس کے پاس چیز گڑیا نہیں تھی بلکہ ایک زندہ سانس لینے والی کتیا تھی۔ ان کے درمیان ایک بحث چھڑ گئی۔ آخرکار یہ طے ہوا کہ وہ میا کو اپنا کتا رکھنے کی اجازت دیں گے۔"

اس نے مزید کہا کہ "ہم اسے اپنے کھانے میں سے کھلاتے۔ اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ اپنی حیاتیاتی ضروریات کو اس جگہ کے ایک الگ تھلگ حصے میں پوراکرے۔ وہ الگ جگہ پر بول وبراز کرتی۔ بعد میں اسے صاف کردیا گیا اور وہاں کسی قسم کی بد بو نہیں تھی۔

میا کی والدہ گیبریلا لیمبرگ نے کہا کہ "عام طور پر ہمیں اچھا لگتا ہے اور ہم معمول کی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں"

میا اور اس کی والدہ گیبریلا اسرائیلی کبوٹیز بستی میں اپنے خاندان سے ملنے جا رہی تھیں جب حماس نے انہیں 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حملے کے دوران قید کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں