محمد بن سلمان اور روسی صدر کا اوپیک پلس ملکوں پر پیداواری کٹوتی کی پابندی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور روسی کے صدر ولادی میر پوتن کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اوپیک پلس تمام ممالک اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کریں گے۔ تاکہ عالمی معیشت کے مفاد میں اوپیک پلس ممالک بھی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کر سکیں۔

مشترکہ بیان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر پوتن کی بدھ کے روز ہونےوالی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ 30 نومبر کو تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک پلس میں شامل ملکوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ تمام رکن رضا کارانہ طور پر اپنی تیل کی پیداوارمیں کٹوتی کریں گے۔ یہ کٹوتی یومیہ دو ملین بیرل ہو گی۔ اس فیصلے پر عمل اگلے سال یعنی 2024 کے آغاز تک جاری رکھی جائے گی۔

ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان اور صدر پوتن کے درمیان بدھ کے روز سعودی دارالحکومت میں ہونے والی یہ اہم ملاقات اکتوبر 2019 کے بعد پہلی ملاقات تھی۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے بھی اتفاق کیا۔

ان شعبوں میں تیل اور گیس کے علاوہ کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعاون کے لیے موثر اور مضبوط معاہدوں کے لیے بھی اتفاق پایا گیا ہے۔

پوتن اور شہزادہ محمد بن سلمان نے دو طرفہ تجارت میں سال 2021 کے مقابلے میں سال 2022 کے دوران ہونے والے 46 فیصد اضافے کی تحسین کی ۔ اس سلسلے میں مستقبل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی مں تجارتی فروغ کے لیے مزید کوششوں پر اتفاق پایا گیا ، نجی شعبے میں تجارتی فروغ کے علاوہ دو طرفہ سرمایہ کاری اور شراکت داری کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر پوتن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی ملاقات میں اسرائیل حماس جنگ اور غزہ میں انتہائی بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی غیر معمولی تعداد ( اب تک 16015 ) پر بھی بات کی گئی۔

اس سلسلے میں فلسطینی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فوری بند کرنے پر زور دیا گیا ، نیز بین لاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں