’زخمی بچے کے کٹے اعضا ایک ڈبے میں اس کے پاس رکھے گئے تھے‘

خان یونس کے یورپی ہسپتال میں موجود ایک برطانوی ڈاکٹر کا اسرائیلی بربریت کا چشم دید لرزہ خیزاحوال جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ عملے کے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور مریضوں کے لیے درد کش ادویات ناپید ہوچکی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے ہر سطح پر انسانی المیہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے یورپی ہسپتال میں موجود ایک برطانوی ڈاکٹر نے بچوں اور شہریوں کے زخمی ہونے کے ہولناک اور لرزہ خیز مناظر کا انکشاف کیا۔

تجربہ کار سرجن ٹام پوٹوکر جو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے لیے کام کرتے ہیں نے ہسپتال کےحالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے "ایک چھوٹے بچے کو دیکھا جو شدید درجے میں جھلس چکا تھا۔ وہ اپنی ماں کو پکار رہا تھا، تاہم اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی ماں مر چکی ہے۔ بچہ شدید تکلیف اور درد سے چیخ رہا تھا مگر ہسپتال میں درد کش ادویات نہیں تھیں‘‘۔

برطانوی اخبار "دی انڈیپنڈنٹ" کے مطابق انہوں نے ایک 8 سالہ بچے کا بھی حوالہ دیا جس کے دماغ کو اس کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا تھا۔ ایک اور بچے کی آنکھ ہٹانے کا آپریشن ہوا، کیونکہ اس کے چہرے کی ہر ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔

برطانوی ڈاکٹر نے مزید کہا کہ اس نے "ایک 3 سالہ بچے کو دیکھا جو پاؤں سے محروم ہوچکا تھا۔ اس کے کٹے ہوئے اعضاء اس کے ساتھ ایک گلابی باکس میں رکھے گئے تھے جب کہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس کے زخموں سے کیڑے نکل رہے تھے"۔

ڈاکٹر پوٹوکر نے حال ہی میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ایک جلنے والے مریض کا علاج کیا جو شمالی غزہ کی پٹی سے لایا گیا تھا۔ اس کے زخم تعفن زدہ تھے اور کئی روز سے اس کی پٹیاں تبدیل نہیں کی گئی تھیں۔

زخمیوں اور میتوں میں نصف بچے

برطانوی ڈاکٹر پوٹوکر نے کہا کہ وہ یورپی ہسپتال کے اندر ہیں جو خان یونس اور آس پاس کے علاقوں کی خدمت کرنے والے اہم طبی مراکز میں سے ایک ہے۔ طبی عملہ زخمیوں کی "مسلسل" آمد سے پریشان ہیں۔ زخمیوں میں نصف بچے ہیں"۔

ڈاکٹر 5 ہفتوں سے یورپی ہسپتال میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی تعداد شمار نہیں کر سکتا جن کا ہم نے علاج کیا جنہیں خوفناک چوٹیں، جھلسنے سے زخمی ہوئے یا ان کے اعضا کٹ گئے اور بہت سے بچے اپنے خاندانوں کو کھوہ چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "فلسطینی اور بین الاقوامی طبی عملہ نرسنگ رومز کے فرش پر سوتے ہیں۔ ان کی خوراک محدود مقدار میں پاستا ہے اور وہ 14 گھنٹے کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں"۔

پوٹوکر نے کہا کہ ایک رات وہ "تقریباً اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کیونکہ ایک شل اس کھڑکی سے اندر آیا جہاں وہ موجود تھے۔

ڈاکٹر پوٹوکر کے ساتھ کام کرنے والے کئی فلسطینی ڈاکٹر اور نرسوں کے خاندان اس بمبارے میں شہید ہوچکے ہیں۔

پوٹوکر نے کہا کہ "جس نرس نے 3 سالہ بچے کے علاج میں مدد کی تھی وہ 3 راتیں قبل اپنے خاندان کے 12 افراد کے ساتھ ماری گئی تھی۔"

ایک سینیر پلاسٹک سرجن جو برطانوی ڈاکٹر کے ساتھی تھے4 ہفتے قبل ایک فضائی حملے میں اپنے خاندان کے 30 افراد سمیت مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں