ابوظہبی: ٹریفک کی وجہ سے پیدا شدہ آلودگی کے خلاف 'صاف ہوا منصوبہ' تیار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جس طرح کے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکراتی عمل کا دوسرا ہفتہ جاری ہے ابوظہبی نے آلودگی سے پاک ماحول کے سلسلے میں اپنا مںصوبہ پیش کردیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں فضائی آلودگی سے پاک ماحول دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کردیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑھتی ہوئی ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کر کے صاف ہوا کا ماحول اور معیار حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جائے گی۔

میرا محمد خالد نائف ہرارہ نے یو این ماحولیاتی کانفرنس کے دوران پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابوظہبی میں چلنے والی ٹرانسپورٹ کا ماحولیاتی آلودگی میں 34 فیصد حصہ ہے۔ اس سلسے میں سب سے زیادہ کردار ٹیکسیوں اور بسوں کا ہے۔اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس مسلئے سے نمٹیں گے اور شہریوں کے لیے صاف ہوا کو یقنی بنائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اس مسئلے کا ادراک حاصل کرسکتے ہیں اور اس کا تدارک بھی۔ ماحولیاتی چلینجوں سے نمٹنے والے ادارے کے تحت ہم نے متعدد منصوبوں پر کام کرلیا ہے۔ ہم اپنے اس فورم سے ماحولیاتی آلودگی کے آلودگی کے مسئلے کو سمجھ رہے ہیں تاکہ ماحولیات کے حوالے سے ایک معیار قائم کیا جاسکے۔

اس سلسلے میں مختلف سڑکوں پر ہوا کے معیار کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ بھی دیکھا جاسکے کہ کون سی گاڑیاں فضائی آلودگی میں زیادہ حصہ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ہماری سب سے زیادہ توجہ لائٹ ڈیوٹی گاڑیوں پر تھی۔ کیونکہ کہ یہ نجی گاڑیوں میں 0 فیصد تک ہیں۔ ہممارے ہاں 16 فیصد ٹیکسیاں سڑکوں پر بروئے کار ہیں جن میں سے صرف 4 فیصد سرکاری ٹکسیاں ہیں۔

یہ گاڑیاں ڈیزل، پٹرول، گیس اور الیکٹرک ہائبرڈ سسٹم کے تحت چلتی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ہم سمجھے کہ کون سی گاڑیاں زیادہ پائیداری کی حامل رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں چلنے والی ٹیکسیوں میں 2018 ماڈل سے پہلے کی ٹیوٹا کیمری جو آلودگی میں سب سے زیادہ کردار ادا کر رہی ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کا یورپی معیار:

یورپی یونین نے ہوائی آلودگی میں کمی کے لیے ایک معیار مرتب کیا ہے تاکہ ہوا میں شامل ہونے والے نقصان دہ کیمیکلز میں کمی لائی جاسکے۔ کیونکہ پورے کرہ ارضی پر کروڑوں گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ کیمیکلز کو ہوا کو آلودہ کر کے ہوا میں سانس لینا مشکل بناتے ہیں جس سے صحت کے مسائل پیدا ہوتی ہیں اور ان سے شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یورپی یونین نے اس سلسلے میں ایک حد مقرر کی ہیں کہ ہوا میں موجود ان کیمیکلز کو ایک حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں