اسرائیلی تفتیش کار نے السنوار سے 180 گھنٹے کی پوچھ گچھ میں کس راز کا پتا چلایا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں حماس کے سربراہ یحییٰ السنوارایک پراسرار شخصیت ہے۔ وہ اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب ہے جسے اسرائیل 7 اکتوبر کے حملے کا ذمہ دار اور منصوبہ بند سمجھتا ہے۔

"میں اسے اس کی ماں سے بہتر جانتا ہوں"

السنوار کی شخصیت کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے سابق اسرائیلی شن بیٹ افسر مائیکل کوبی نے کہا کہ وہ غزہ میں حماس کے رہ نما کو "اس کی ماں سے بہتر جانتے ہیں"۔ سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو اس نے بتایا کہ اس نے تفتیش کے دوران السنوارکے ساتھ تقریباً 180 گھنٹے گزارے۔

"حماس ہی میرا سب کچھ ہے"

کوبی نے کہا کہ "میں نے اس سے پوچھا کہ 'آپ کی عمر اس وقت 28-29 سال ہے۔آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟ آپ خاندان نہیں چاہتے؟'۔ اس نے مجھے جواب دیا کہ ’حماس میری بیوی، بچے اور حماس میرے لیے سب کچھ ہے‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ السنوار جو 2021 میں ایک اسرائیلی قاتلانہ حملے میں بچ گئے تھے کو اس بار مارنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے اہم ترین اہداف میں شمار کیے جاتے ہیں۔

"السنوار اسرائیل کے لیے امریکا کے لیے بن لادن کے مساوی‘‘

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے رکن حسین عبد الحسین نے کہا کہ "السنوار اسرائیل کے لیے اتنا ہی خطرناک اور مطلوب ہے جتنا امریکا کے لیے اسامہ بن لادن تھا‘‘۔ جس طرح امریکا نے بن لادن کا پیچھا کیا اور بعد میں اسے پکڑا، مجھے یقین ہے کہ اسرائیلی بھی ایسا ہی کریں گے اور یہ جنگ السنوا کو پکڑنے سے قبل ختم نہیں ہوگی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کوئی اسرائیل کو السنوار کی معلومات فراہم کرتا ہے تو السنوار اسے اسرائیلیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیتے ہیں۔

گیلاد شالیت کے بدلے رہائی

قابل ذکر ہے کہ السنوار کو 1988ء میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں دو اسرائیلی فوجیوں اور چار فلسطینیوں کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہوں نے دو دہائیوں تک ایک اسرائیلی جیل میں گذارے تھے۔ انہیں حماس کی اندرونی سکیورٹی فورس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

اسے 2011 میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے رہا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں