اسرائیل نے لبنانی صحافی کی ہلاکت والے علاقے کو جنگی علاقہ قرار دے کر جان چھڑا لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے تقریبا پونے دو ماہ بعد لبنانی صحافی کی اسرائیلی ٹینک کے گولے سے ہونےوالی ہلاکت کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافی کی ہلاکت جس علاقے میں ہوئی وہ جنگی علاقہ تھا۔ جہاں مقتول صحافی جنگ علاقے میں موجود تھا ۔

صحافی عصام عبداللہ 13 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی طرف سےگولہ باری کا نشانہ بنے تھے۔ عصام عبداللہ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹر' سے وابستہ تھے۔

رائٹرز نے اسرائیل سے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اب اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عصام عبداللہ کی جس علاقے میں ہلاکت ہوئی وہ جنگی علاقہ تھا ،اس لیے یہ ہلاکت ہو گئی۔ فوجی بیان میں مزید کہا گیا ہے 'حزب اللہ کے جنگجووں نے حملہ کیا تھا ۔ جس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے فائر کھول دیا ۔ تاکہ جنگجوؤں کی ممکنہ در اندازی کو روک سکے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بیان جاری کرتے ہوئے عصام عبداللہ کی ہلاکت کے وقت کی 'فوٹیجز' کو دیکھا تک نہیں ہے۔

رائٹرز نے اس اسرائیلی فوجی بیان کے بعد تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے عصام عبداللہ کے ساتھ چھ دوسرے رپورٹرز زخمی ہوئے تھے۔ یہ سب اسرائیلی ٹینک کے گولوں سے نشانہ بنائے گئے تھے۔ جبکہ صحافی بارڈر پر ہونے والی شیلنگ کو فلما رہے تھے۔

سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لگ بھگ 80 صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ عصام عبداللہ کو بھی اسرائیلی فوج نے یہ دیکھنے کے باجود نشانہ بنایا تھا کہ صحافیوں کا ایک گروپ اپنی پوری صحافتی شناخت کے ساتھ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں مصروف ہے اور اس جگہ سے قریب نہیں ہے جو اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کی وجہ سے ہدف ہو سکتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں