فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی صدر کا غزہ میں لڑائی کے دوران اسرائیل سے شہریوں کوتحفظ فراہم کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک بار پھر اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ جنگ میں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے غزہ کے بڑے شہروں اور اس کے اطراف میں لڑائی میں شدت کے ساتھ شہریوں کے تحفظ کی "فوری ضرورت" پر زور دیا۔

26 نومبر کے بعد نیتن یاہو سے اپنی پہلی فون کال میں جوبائیڈن نے "شہری آبادی کو حماس سے الگ کرنے کے لیے" انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے قیام پر زور دیا۔

امریکی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ "صدر نے شہریوں کے تحفظ اور شہری آبادی کو حماس سے الگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسس مقصد کے لیے راہداریوں کے ذریعے عام شہری آبادی کو الگ کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا۔

17 ہزار سے زائد اموات

حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں محصور اور تباہ ہونے والے چھوٹے فلسطینی علاقے میں مرنے والوں کی تعداد جمعرات کو بڑھ کر 17,177 ہو گئی، جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

فضائی اور بحری تعاون کے ساتھ جمعرات کو اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر خان یونس پہنچے اور جنوبی غزہ کی پٹی کے اس سب سے بڑے شہر میں لڑائی ہوئی۔ حماس کے جنگجوؤں کی غزہ شہر اور پڑوسی جبالیہ کے علاقے کے شمال میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

شمال کی طرف درجنوں اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کے پرانے شہر میں داخل ہوئیں۔ خان یونس میں فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے حماس کے متعدد ارکان کو ہلاک اور درجنوں اہداف پر بمباری کی ہے۔

غزہ کی پٹی سے

ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق شمالی غزہ کے شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں 24 گھنٹوں کے اندر 115 لاشیں پہنچیں۔

جمعرات کو اسرائیلی چینلز نے ایسے کلپس نشر کیے جن میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی حراست میں درجنوں فلسطینیوں کو قید دکھایا گیا ہے جن کے جسموں پر معمولی کپڑے ہیں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی ہیں۔

ادھر جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں النجار ہسپتال کے مردہ خانے کے فرش پر سفید پلاسٹک میں لپٹی تقریباً بیس لاشیں رکھی گئی ہیں، جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔ان لاشوں کے گرد ان کے پیارے روتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں