غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امن کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے کہا ہے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسی امن کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے جو مسئلہ فلسطین کے سیاسی اور پائیدار حل کی طرف لے کر جانے والی ہو اور بلآخر جس کے نتیجے میں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو جائے۔

محمود عباس نےان خیالات کا اظہار خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصادم ایک انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے جس کے لیے بین القوامی امن کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے جس میں عالمی طاقتوں کی طرف سے امن اور مسئلہ فلسطین کے لیے گارنٹیز سامنے آسکیں۔

اور اس کے ساتھ ساتھ غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ ختم ہو ۔ انہوں نے کہا اسرائیلی فوج نے پورے مقبوضہ فلسطین میں اپنی کاروائیوں کو بڑھا دیا ہے خصوصا پچھلے ایک سال سے بڑھا دیا ہے اور یہودی آبادکار بھی پرتشدد کاروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بندوق اٹھانے کے مقابلے میں بات چیت اور مزاکرات سے مسئلے کا حل نکالنے کا لیے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ہی کے راستے سے اسرائیل کے اس قبضے کا خاتمہ ممکن ہے۔

محمود عباس نے مزید کہا" میں پرامن مزاحمت کا ساتھ ہوں ، میں مزاکرات کا حامی ہوں جو ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کی بنیاد پر ہوں جو بین القوامی خواہشات کے مطابق ہو یہ چیزیں مسئلے کے حل کی طرف لے جاسکتی ہیں ایسے حل کی طرف جس کو عالمی طاقتوں کی حمایت اور تحفظ حاصل ہوگا اسی راستے سے غزہ کی پٹی پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوسکتی ہے ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست جس میں مغربی کنارا بھی شامل ہو اور مشرقی یروشلم بھی"۔

محمود عباس اس وقت یہ بات کر رہے تھے جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری بڑھائی ہوئی ہے۔ دوماہ سے جاری جنگ کے دوران اسرائیل نے بمباری کر کے 17000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کرچکا ہے جبکہ 46000 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں اسی طرح 19لاکھ فلسطینی اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں ان نقل مکانی کرنے والوں میں سے نصف کے قریب وسطی غزہ اور مصری سرحد کے قریب پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے یہ حملے حماس کے خاتمے کے لیے جاری ہیں۔ حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مزاحمتی طریقے پر زمین آسمان کا فرق ہے۔ فلسطینی اتھارٹی 1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت وجود میں آئی تھی، حماس اس اوسلو معاہدے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔

صدر عباس نے کہا کہ صدارتی انتخابات اور پارلیمانی انتخابات بین الاقوامی تقاضا ہے لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ وہ فلسلطینی اتھارٹی کی طاقت کو بحال کرے اور اس کے اندر آچکنے والی کمزوری کو ختم کرے۔ واضح رہے یہ انتخاب 2006 سے التوا میں ہیں جب حماس نے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ سے نکال باہر کیا تھا۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطین اتھارٹی 1993 کے اوسلو معاہدے سے لے کر اسرائیل کے تمام معاہدوں کی پابند ہے لیکن اسرائیل ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے جو اس نے فلسطینیوں سے کر رکھے ہیں۔

محمود عباس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ رسک لے لیں گے حماس 2006کی طرح اس بار بھی الیکشن جیت جائے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا" جو بھی جیتے وہ جیت جائے گا کیوں کہ یہ جمہوری الیکشن ہوگا"۔

ایک سوال کے جواب میں محمود عباس نے کہا کہ وہ اپریل 2021 میں الیکشن کروانا چاہتے تھے لیکن یورپی یونین کے نمائندے نے بتایا کے اسرائیل مشرقی یروشلم میں الیکشن کو قبول نہیں کرے گا اس لیے ہم نے انتخابات کا فیصلہ واپس لے لیا۔

انہوں نے اصرار کیا کہ مشرقی یروشلم کے بغیر الیکشن نہیں ہوسکتے۔ صدر محمود عباس نے انٹرویومیں پوچھے گئے سوالات کا باوجود غزہ میں جنگ کے بعد کے منظر نامے کے حوالے سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں پیش کیا جس میں ان کے امریکی حکام سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی بعد از جنگ 23 لاکھ آبادی رکھنے والی غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالے گی۔

دوسری جانب نیتن یاہو بڑے واضح الفاظ میں یہ کہ چکے ہیں غزہ میں جنگ کے بعد اس کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے نہیں کیا جائیگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں