فلسطینیوں کی نقل مکانی بارے حماس کے بیانات غلط ہیں: تحریک فتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تحریک فتح نے غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے حوالے سے حماس کے رہ نما اسامہ حمدان کے بیانات کی مذمت کی ہے اور انہیں ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے۔

تحریک فتح کے ترجمان حسین حمایل نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی کی طرف سے رپورٹ کیے گئے بیانات میں کہا کہ حمدان کے بیانات "ناقابل قبول ہیں۔ یہ بیان ہماری قیادت اور نقل مکانی کو مسترد کرنے والے لوگوں کے موقف کی خدمت نہیں۔

حمایل نے مزید کہا کہ حماس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ فلسطینی شہری کی جان متعصبانہ مفادات سے زیادہ اہم ہے۔ انہیں ایسی سمت میں بات کرنی چاہیے جو فلسطینی عوام کی خدمت کرے اور یہ معاملہ فلسطینیوں کے خون کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے"۔

نقل مکانی کے خیال کو قبول کرنا

قبل ازیں جمعرات کو فتح موومنٹ کے موبلائزیشن اینڈ آرگنائزیشن کمیشن کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حمدان کے بیانات "خطرناک ہیں اور غزہ کے لوگوں کو سیناء میں بے گھر کرنے کے خیال کو قبول کرنے کا عوامی اشارہ ہیں"۔

رفح میں ایک بے گھر فلسطینی خاتون اپنے دو بچوں کے ہمراہ
رفح میں ایک بے گھر فلسطینی خاتون اپنے دو بچوں کے ہمراہ

الدولہ نے کہا کہ "حماس رہ نما کا محض یہ بیان کہ صحرائے سینا فلسطینیوں کو نگل نہیں جائے گا وہاں فلسطینیوں کی نقل مکانی کی ایک واضح قبولیت کی طر اشارہ ہے۔اس وقت تک تمام فلسطینی قوتیں اور مصر فلسطینیوں کی جزیرہ نما سینا کی طرف نقل مکانی کے کسی فارمولے کو قبول نہیں کرتی۔

حمدان کا بیان

حماس رہ نما اسامہ حمدان نے گذشتہ روز ٹیلی ویژن بیانات میں کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر دھکیلنے کی کسی بھی کوشش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسئلہ فلسطین ختم ہو گیا ہے بلکہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں گے اور مزاحمت جاری رکھیں گے۔

حمدان نے کہا کہ "کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ صحرائے سینا فلسطینیوں کو نگل جائے گا۔ اس کے برعکس سرحدی علاقہ قابض دشمن کے خلاف ایک زیادہ قائم مزاحمتی اڈہ ہو گا اگر قابض یہ سمجھتا ہے کہ وہاں سے کسی کو بے دخل کرنا ہی حل ہوگا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے‘‘۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اس کا حل فلسطینیوں کو بے گھر کرنا نہیں بلکہ اسرائیل کا غیرقانونی قبضہ ختم کرنا ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ مصر نے بارہا غزہ سے سیناء تک فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کیا۔ صدر عبدالفتاح السیسی نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک "سرخ لکیر" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں