مغربی کنارا: فلسطینیوں کو ٹانگوں میں گولیاں مارنے کا طریقہ تبدیل، سراور سینے نشانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماورائے سرحدات کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تنظیم ' دی ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ' نے کہا ہے مغربی کنارے کے علاقے میں گولیوں سے ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اب (فلسطینیوں کو ) عام طور پر ان کے اعضاء یعنی ٹانگوں اور بازووں پر گولیاں نہیں ماری جاتیں بلکہ ان کے سروں اور دھڑوں کو سیدھا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بات' ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" المعروف ایم ایس ایف کے سربراہ نے کئ روز کے مغربی کنارے میں قیام کے بعد واپسی پر کہی ہے۔ طبی خیراتی ادارے کے صدر نے کہا ' اب وہاں کے ہسپتالوں میں واضح تبدیل دیکھی جارہی ہے۔ اس تبدیلی کو ایم ایس ایف کے ارکان نے بھی محسوس کیا ہے۔'

صدر کسٹاس کرسٹو نے جنیوا میں ایم ایس ایف کے مرکزی دفتر میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جس قسم کے صدمے کو ہم ڈیل کر رہے ہیں وہ اب مکمل طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔ '

ان کا کہنا تھا 'ماضی میں مغربی کنارے میں ( فلسطینیوں کو ) گولیاں مار نے کا طریقہ یہ تھا کہ ان کے جسمانی اعضاء کو نشانہ بنایا جاتا تھا( مقصد صرف معذور بنانا ہوتا تھا) مگر اب یہ طریقہ وارادت مکمل تبدیل کر دیا گیا ہے۔'

ان کے بقول ' اب انہیں صرف زخمی نہیں کیا جاتا نہیں جاتا نہ ان کے اعضاء پر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ اب سر اور پیٹ وغیرہ کا نشانہ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک واضح تبدیلی ہے جو دیکھنے میں آرہی ہے۔'ایم ایس ایف کے صدر نے کہا ' جب ہم صدمے اور ہولناکی والے واقعات زیادہ دیکھتے ہیں تو ا کا مطلب ہے کہ ہم زیادہ لوگوں کو مرتا دیکھتے ہیں۔ '

ا س موقع پر انہوں نے بین الاقوامی برادری کو مغربی کنارے میں پیش آنے والے ان واقعات کی طرف متوجہ ہونے کے لیے کہا۔

انہوں نے کہا فلسطینی ہسپتالوں میں حالات دیکھ کر بھی ایک بے چینی اور صدمے کی صورت ہوتی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم ان زخمیوں اور مریضوں کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ ڈاکٹر مریضوں تک اور مریض ڈاکٹروں تک نہیں پہنچ سکتے۔

غزہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہاں ہسپتالوں میں آنے والے شدید زخمی لوگوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ وہاں اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ حد یہ ہے کہ جن بچوں کو لایا جاتا ہے ان کے گھر والوں اور والدین میں سے کوئی زندہ نہیں بچا ہوتا، ایک بڑے نفسیاتی صدمے کی کیفیت ہے جس سے لوگ گزر رہے ہیں۔'

واضح رہے بیلجیئم نے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں کے خلاف بڑھے ہوئے تشدد کے ان ہولناک واقعات کی وجہ سے ان آباد کاروں کو بیلجیئم کے ویزوں کا اجراء روکنے کا سوچنا شروع کیا ہے۔ کہ اس قدر بے رحم آباد کار ان بیلجیئم کی سرزمین پر نہ آسکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں