اسرائیلی فوج کی قیدیوں کوبرہنہ کرنےکےاشتعال انگیزاقدام کوسند جواز فراہم کرنے کی کوشش

فوجی سروس کی عمر کے افراد کو پکڑ کر تفتیش کرتے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کا پتا چلایا جا سکے۔ اسرائیلی فوجی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شمالی غزہ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں درجنوں فلسطینی شہریوں کو گرفتار کرنے اور ان کو برہنہ کرنے کے مناظر سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پرشدید تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت نے اپنے اس اقدام کو درست قرار دینے اور اسے سند جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش شروع کی ہیں۔

امریکی ’سی این این‘ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق فوج ترجمان ایلون لیوی نے کہا کہ اسرائیلی فوج فوجی سروس کی عمر کے لوگوں کو گرفتار کرتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں سے کس کا تعلق حماس تحریک سے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جب ہمیں ان علاقوں میں فوجی خدمات کی عمر کے مرد ملتے ہیں جنہیں ہم نے ایک ماہ سے زیادہ پہلے خالی کرنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ حماس کے مضبوط گڑھ ہیں، ہمیں ان کو گرفتار کرنا چاہیے اور ان میں سے دہشت گردوں کی شناخت کرنی چاہیے"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش کی جائے گی۔ دہشت گردوں کو سزا دی جائے گی اور غیرمسلح لوگوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔

ان کی آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیاں لگائی گئیں

واضح رہے اسرائیلی ٹی وی نے بھی ان فلسطینی اسیران کی اس حالت میں اپنی فوج کی بنائی ہوئی فوٹیج دکھائی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی کے مطابق یہ حماس کے جنگجو ہیں جنہیں غزہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں نیم برہنہ کر کے ان کے سر نیچے کیے گئے ہیں اور غزہ کی گلی میں بٹھایا گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے اس بارے میں ایک سوال پر اس انداز کی گفتگو کی 'ہم ان افراد کی بات کر رہے ہیں جنہیں جبالیا سے حراست میں لیا گیا ، جو حماس کے لیے ایک محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم فوجی عمر کے حامل مردوں کی بات کر رہے ہیں، جنہیں عام شہریوں کی آبادی سےکئی ہفتے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ '

ان تصاویر میں سے ایک میں دکھایا گیا ہے ' 20 سے زائد لوگ گلی میں گھٹنے ٹیکتے ہوئے نیم برہنہ ہیں۔ ان کے آس پاس ایک درجن کے قریب چپلیں اور جوتے بکھرے ہوئے ہیں۔ اتنی ہی تعداد میں نیم برہنہ افراد کو ایک فوجی ٹرک کے عقبی حصے میں گھستے ہوئے دکھایا گیا ہے۔'

ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد کچھ فلسطینیوں نے انہیں پہچان لیا ہے اور کہا ہے ان میں ان کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جن کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لندن میں موجود ایک عربی زبان کے صحافتی ادارے' العربی الجدید' نے کہا ہے ان میں شامل ایک صحافی 'العربی الجدید' سے وابستہ ہے۔ ہم اپنے اس کارکن کی گرفتاری اور توہین کی مذمت کرتے ہیں۔'العربی الجدید' نے اس صحافی کا نام 'ضیا کہلوت' بتایا ہے۔

اس ادارے نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ دیا کہلوت اور دیگر فلسطینی شہریوں کی گرفتاری کی مذمت کی جائے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم ادارے 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلستٹس' کی طرف سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ دیا کہلوت کو فوری رہا کیا جائے۔

ادھر بعض فلسطینی شہریوں نے ان افراد کی گرفتاری کی جگہ کی تصاویر سے شناخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو بیت لاھیا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس علاقے کو اسرائیلی فوج حکماً اور جبراً خالی کراتی رہی ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے اس علاقے کو کئی ہفتے پہلے محاصرے میں لیا تھا۔

ایک امریکی فلسطینی شہری ہانی المدھون ورجینیا میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان اسیروں میں ایک ان کا رشتہ دار بھی ہے جس کا حماس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا 'معصوم شہریوں کا حماس یا کسی دوسرے گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں