امدادی سامان غزہ پہنچانے کے لیے کرم شالوم راہداری پر آزمائشی سرگرمیاں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے حکام نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے کرم شالوم نامی راہداری سے سامان کی منتقلی کے لیے ہفتہ کے روز ابتدائی آزمائش کی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ آزمائشی سرگرمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوری طور پر رفح راہداری کے ساتھ ساتھ کرم شالوم راہداری سے بھی امداد سے بھرے ٹرک غزہ پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ یو این حکام کے مطابق ابھی اجازت حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ جب اجازت کا پراسس مکمل ہو جائے گا تو باضابطہ طور پر کرم شالوم سے امدادی سامان کی منتقل ممکن ہو سکے گی۔

حکام کا کہنا ہے نئے مجوزہ سسٹم کے تحت کرم شالوم سے آنے والے ٹرک اسرائیل اور غزہ اور مصر کے درمیانی سرحد عبور کریں گے۔ یہ ٹرک مصر سے اردن جائیں گے اور اس کے بعد کریم شالوم راہداری پہنچیں گے۔ یہ پہلی بار ہو گا۔ کریم شالوم کی راہداری رفح کی مصری راہداری جو غزہ میں کھلتی ہے کریم شالوم اس سے تین کلومیٹر پہلے آتی ہے۔

خیال رہے جنگ سے پہلے کرم شالوم راہداری بھی بروئے کار تھی۔ جنگ سے پہلے غزہ پہنچنے والے سامان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ ترسیل اسی کرم شالوم راہداری سے ممکن ہوتی تھی۔

اقوام متحدہ کے خوراک سے متعلق پروگرام کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں پھیلنے والی مایوسی کے ازالے کے لیے کرم شالوم راہداری سے امدادی سامان پہنچانے میں تیزی لانا مقصود ہے۔

واضح رہے یہ کوششیں کافی دن سے چل رہی تھیں، تاہم اسرائیل کی طرف سے جواب انکار کی صورت مل رہا تھا۔ اب جمعرات کے روز اقوام متحدہ اور اسرائیل کے درمیان اس بارے میں قدرے اتفاق کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد ہی ہفتے کے روز کرم شالوم راہداری سے آزمائشی آمدورفت اور نقل و حمل کی کوشش کی گئی ہے۔

اس آزمائشی مرحلے کے لیے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے علاقے اور اردن کا دورہ کیا تھا، ان کا بتانا تھا کہ شالوم راہداری پرٹرکوں کی دستاویزات اور معائنے کی آزمائشی سرگرمیاں کی گئی ہیں تاکہ چیزیں مکمل حفاظت کے ساتھ ممکن ہوتی رہیں۔

کارل سکاؤ نے غزہ میں امدادی سامان کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ' وہاں ایک قحط سا ماحول ہے۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں اس لیے وہ امدادی ٹرکوں پر جھپٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں امداد تقسیم کرنے کے مقامات پر چھینا جھپٹی دیکھنے میں آتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا 'جنوبی غزہ کی طرف بہت زیادہ نقل مکانی کی وجہ سے رفح کی طرف سے آنے والے امدادی ٹرک اور سامان سخت خطرے میں ہوتے ہیں۔ انہیں جھگڑوں کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اس صورت حال کو کب تک دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ غزہ کی نصف آباد بھوک زدگی کا شکار ہے۔ دس افراد میں 9 کو ہر روز کھانا فراہم نہیں ہو رہا ہے۔ بلاشبہ غزہ میں امدادی سامان کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں