فلسطین اسرائیل تنازع

امریکا کی طرف سے اسرائیل کو ’میرکاوا‘ ٹینک کے 45 ہزار گولوں کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک موجودہ اور سابق امریکی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کانگریس سے غزہ میں حماس کے خلاف لڑائی میں استعمال ہونے والے اسرائیلی میرکاوا ٹینکوں کے 45,000 گولوں کی فروخت کی منظوری کی درخواست دی ہے۔

ایک امریکی اہلکار اور محکمہ خارجہ کے سابق ترجمان جوش پال نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں کے اعتراضات کے پیش نظر اس معاہدے کی جلد منظوری دیں۔

پال نے کہا کہ "یہ بل اس ہفتے کے شروع میں دو کمیٹیوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اس درخواست پر غور کے لیے 20 دن ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایک سیاسی معاملے کے طور پر،"ہم مجوزہ دفاعی سامان کی منتقلی یا فروخت پر کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کیے جانے سے پہلے اس کی تصدیق یا تبصرہ نہیں کرتے"۔

500 ملین ڈالر

یہ درخواست ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب غزہ جنگ میں امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں پہلے سے غیرمعمولی خدشات پائے جا رہے ہیں۔ حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد امریکا نے حماس کو کچلنے کے لیے تل ابیب کی بھرپور مدد کی ہے۔

ممکنہ معاہدے کی مالیت 500 ملین ڈالر سے زیادہ ہے اور یہ صدر جو بائیڈن کی 110.5 ارب ڈالر کی اضافی درخواست کا حصہ نہیں ہے جس میں یوکرین اور اسرائیل کے لیے فنڈنگ شامل ہے۔

یہ اقدام سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی اور ہاؤس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے غیر رسمی جائزے سے مشروط ہے۔

اسرائیل کے لیے امریکی ہتھیار

قابل ذکر ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل میں دو دسمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکا نے اسرائیل کو غزہ میں حماس کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے 100 بنکر بسٹر بم اور دسیوں ہزار دیگر ہتھیار فراہم کیے ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی کی طرف سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو اضافی ہتھیاروں اور گولہ بارود میں 15000 بم اور 57000 توپ خانے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں