مشرق وسطیٰ

جنگ بندی سے پہلے جنگ کے بعد کے منظر نامے پر کوئی بات نہیں ہو سکتی: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے غزہ میں فوری جنگ ختم کرنے کو ترجیح نہیں بنایا ہے۔ جیسا کہ عرب وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر محاصرہ غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر مزید امدادی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے۔

انہوں نے اس امر کا اظہار یہاں امریکہ میں ترکیہ، قطر، مصر ، اردن اور فلسطین کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'اس جنگ کے حوالے سے ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ کسی کی ترجیح نہیں ہے۔ یا کم از کم ایسا لگتا نہیں کہ جنگ کا خاتمہ چاہا گیا ہے۔ بین الاقوامی برادری میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جو اس چیز کا احساس ہی نہیں رکھتے کہ جنگ جس قدر جلد ممکن ہو ختم ہونی چاہیے۔ لیکن ہم سب اس پر بہت ناخوش ہیں۔ '

ان وزرائے خارجہ کا یہ وفد اس سے پہلے مختلف اہم ملکوں کا دورہ کر چکا ہے اور آج کل امریکہ میں ہے۔ اس وفد کی مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اسرائیل حماس جنگ کے حوالے سے یہاں اہم ملاقاتوں کا امکان ہے۔ تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان از سر نو امن عمل شروع کرایا جا سکے اور اسرائیل پر زور دیا جا سکے کہ وہ غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کا بہاؤ فوری شروع کرنے کی اجازت دے۔

سعودی وزیر خارجہ نے بعد از جنگ غزہ کے منظر نامے کی آپشنز کے بارے میں بات چیت کے سوال پر کہا ' عرب ممالک اس وقت پر موضوع پر بات کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں کہ جنگ کے بعد کیا ہو گا۔ اس وقت اصل ضرورت جنگ کو بند کرنے کی ہے۔ ' واضح رہے اطلاعات یہ ہیں کہ امریکہ بحث چاہتا ہے کہ غزہ جنگ خاتمے کے بعد بعد غزہ پر حکمرانی کون کرے گا۔

تاہم شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا 'ہمارے نزدیک جو ممکن اور دیرپا ہو سکتا ہے وہ فلسطین کے تناظر میں کیا سمانے آنے والا ہے، مغربی کنارے اور غزہ میں ساری صورتحال کیا بننے والی ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راستہ کیا ہو سکتا ہے۔ '

ان کا مزید کہنا تھا 'فوری ضرورت یہ ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان پہنچانے کو تیز تر کیا جائے، یہ قابل قبول نہیں ہے کہ امدادی کارروائیاں اسی طرح روکی رکھی جائیں، جبکہ غزہ میں امدادی اشیا کی ضرورت غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا فلسطینی ریاست کے قیام یا اس کے لیے 'روڈ میپ' کی تیاری کا کام ایک سال یا اس سے بھی جلدی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کو کیسا ہونا چاہیے اور اس کے قیام کے لیے کرنے کی ضرورت ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں