شام میں داعش کے حملے میں حکومت کے حامی سات جنگجو ہلاک

حملوں میں حکومت کی حامی افواج کے کم از کم 385 ارکان اور 165 عام شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ شام میں حکومت کی حامی افواج کے سات ارکان جمعہ کے روز داعش گروپ کے حملے میں ہلاک ہو گئے۔

لندن میں موجود رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے عراق کے ساتھ سرحد پر بوکمال کے مضافات میں ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کر دی جس میں "حکومت کے حامی کم از کم سات سپاہی ہلاک ہو گئے"۔

شام میں خبری ذرائع کے ایک وسیع نیٹ ورک کی حامل آبزرویٹری کے مطابق اس سال داعش کے حملوں میں حکومت کی حامی افواج کے کم از کم 385 ارکان اور 165 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

عبدالرحمٰن نے کہا کہ جمعہ کو ہلاک ہونے والوں میں شامی اور "غیر ملکی" دونوں شامل تھے۔

2014 میں شام اور عراق کے کچھ حصوں میں اقتدار میں آنے کے بعد دولتِ اسلامیہ نے دونوں ممالک میں اپنی خود ساختہ "خلافت" کو ڈگمگاتے دیکھا جب اس کے خلاف ایک بین الاقوامی جہادی مخالف اتحاد کی حمایت سے شروع کردہ پے در پے حملے کیے گئے۔

شام میں دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کی شکست کا اعلان 2019 میں کیا گیا تھا لیکن جہادی مخالف اتحاد ملک میں جہادی نیٹ ورکس کے خلاف لڑنے کے لیے موجود رہا جو وہاں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شامی تنازع جو 2011 میں جمہوریت کے حامی مظاہروں پر آہنی ہاتھوں سے کیے گئے جبر سے شروع ہوا تھا، اس میں نصف ملین سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بارہ سال سے زیادہ جاری رہنے والے خونی تنازعہ نے ملک کو اثر و رسوخ کے مختلف علاقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت نے اپنے روسی اور ایرانی اتحادیوں کی حمایت سے ملک کے ایک بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں