ہم نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی انتظام پر بات نہیں کی: مشیر محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر محمود الھباش نے زور دے کر کہا ہے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نہ صرف فلسطینی اتھارٹی کے خلاف ہیں بلکہ وہ فلسطینی قوم کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔

الھباش نے جمعے کی شام العربیہ/الحدث کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ غزہ کا مستقبل مغربی کنارے اور یروشلم سے منسلک ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے فلسطین کی تقسیم کو مضبوط کرنے کی سازشیں کیں۔

"جارحیت کی روک تھام اولین ترجیح"

فلسطینی صدر کے مشیر نے وضاحت کی کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی نوعیت کے انتظامات پر بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو روکنا ان کی ترجیح ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے وفود نے اتھارٹی سے غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات کی، لیکن ہماری ترجیح جنگ بندی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایجنڈا خود کو فلسطینی حقیقت پر مسلط نہیں کر سکتا۔

فلسطینی صدر کے مشیر نے امریکا کے اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات اس کے بیانات سے متصادم ہیں۔

"فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی بات افسوسناک ہے"

فلسطینیوں کی نقل مکانی کے حوالے سے حماس کے ایک رہ نما کے بیانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی فلسطینی نقل مکانی کے بارے میں بات کرتا ہے تو اسے غلط تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے نیتن یاہو کے منصوبے کو ناکام بنانا ہوگا۔

فلسطینی صدر کے مشیر نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ انہیں حماس کی طرف سے بات چیت کے لیے کوئی اشارہ نہیں ملا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں