اسرائیلی فوج کی ’کیپٹن ایلا ‘ آرمی ترجمان کی فی میل ورژن کیوں بن رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے اپنی نائب کے ساتھ ذمہ داریوں کو تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس ضمن میں دوسری طرف "کیپٹن ایلا" نے بھی فعال ہونا شروع کر دیا ہے۔

"کیپٹن ایلا" X پلیٹ فارم پر بھی فعال ہے جوغزہ میں گذشتہ 7 اکتوبر سے جاری وحشیانہ جنگ کے واقعات کے بارے میں اپنے ملک کے بیانیے کی ترجمانی کررہی ہے۔

مشہور عوامی محاورے

کیپٹن ایلا اویچائی ادرعی کی طرح ہی سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔ ادرعی جسے اس کے بہت سے عرب فالور اشتعال انگیز قرار دیتے ہیں وہ اسرائیلی فوجی ہونے کے باوجود روانی سے عربی بولتا ہے، اکثر مشہور محاوروں اور بعض اوقات قرآنی آیات کا حوالہ دیتا ہے۔

تاہم عرب فالورز کی طرف سے ادرعی کو زیادہ پذیرائی نہیں ملتی۔ اس کے فلسطینیوں کے خلاف تبصروں کو اکثر نفرت پر مبنی اور اشتعال انگیز قرار دے کر مسترد کردیا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں نوجوان خاتون افسر نےگذ شتہ ادوار میں غزہ میں فلسطینیوں سے بالعموم اور غزہ کی پٹی کی خواتین کو بالخصوص اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بارہا کوشش کی ہے۔

اسے شاید اس بات کا احساس نہیں ہے کہ پہلے محاصرے کی وجہ سے اور اب انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی بندش کی وجہ سے اس کی بات فلسطینیوں تک کم ہی پہنچتی ہے۔

اپنی تازہ ترین ٹویٹ میں ایلا جس نے 2020 میں اپنا ’ایکس‘ اکاؤنٹ شروع کیا، نے کل ہفتے کو ایک ویڈیو شائع کی، جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ بچوں کی ایک گڑیا جس میں گولہ بارود کے علاوہ ایک سنائپر ہتھیار بھی تھا شمالی غزہ کے ایک اسکول کے اندر سے ملی ہے۔

تاہم اس کی اس ویڈیو پر عرب صارفین کا رد عمل ویسا ہی تھا جیسا کہ عربی بولنے والے اویچائی ادرعی کے بیانات پرہوتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج اسرائیلی فوج نے جبالیہ کیمپ اور شمالی غزہ کے دیگر مقامات پر بے گھر ہونے والے متعدد اسکولوں کو گھیرے میں لے لیا۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسکولوں کی تلاشی لی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں