اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کو جبرا مصر کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اونروا سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ادارے 'اونروا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر مصر کی طرف دھکیل دے۔

لاس اینجلس ٹائمز میں تحریر کردہ ایک مضمون میں اونروا سربراہ فلپ لازارینی نے کہا ہے غزہ میں انسانی المیہ زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جنگ زدہ ماحول سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کا رش مزید جنوب کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت متعدد رکن ممالک غزہ سے فلسطینیوں کے زبردستی انخلاء کو رد کر چکے ہیں ۔ لیکن زمین پر جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ فلسطینیوں کو مصر کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔ قطع نظر اس کے کہ فلسطینیوں کو مصر میں آباد ہونا ہے یا کہی اور آباد ہونا ہے۔

وسیع پیمانے پر تباہی جو پہلے شمالی غزہ میں ہوئی اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ۔ یہ جنگ کا پہلا منظر نامہ تھا۔ جبکہ خان یونس اور جنوبی غزہ کے دوسرے علاقوں سے لوگوں کو مصری بارڈر کے قریب دھکیل دیا گیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا اور فلسطینیوں کو دھکیلنے کا راستہ اسی طرح کھلا رہا تو یہ دوسرا نکبہ ہوگا جیسے کہ بہت سارے لوگ پہلے ہی کہہ رہے ہیں۔ اور پھر غزہ فلسطینیوں کے رہنے کی کبھی جگہ نہیں بن سکے گا۔

لازارینی نے اس موقع پر نقل مکانی کے سلسلے میں عربی کی اصطلاح نکبہ کا ذکر کیا جس میں 1948 میں سات لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینیوں نے اسی طرح کے جبر کے ماحول میں نقل مکانی کی تھی اور بے گھر ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے رہنے والے 19 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں اور غزہ کے اندر نقل مکانی کا شکار ہیں۔ تاہم اب اگلے مرحلے پر انہیں مصر کی طرف دھکیلے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس پر اسرائیلی وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ نہ کبھی اسرائیل کا ایسا کوئی پلان تھا، نہ اب ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوگا کہ فلسطینیوں کو مصر کی طرف دھکیلا جائے۔ اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹ ہے۔

رضاکارانہ نو آباد کاری

اسرائیلی انٹیلیجنس کے وزیر گیلا گیملیل نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جنگ کے بعد ہوسکتا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کی رضاکارانہ نو آباد کاری کا مرحلہ آئے۔ اور یہ انسانی بنیادوں پر غزہ سے باہر نو آباد کاری ہوگی۔

سابق اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ مصر کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی وسائل سے اپنے صحرائے سینا میں وسیع پیمانے پر فلسطینیوں کے لیے خیمے لگا لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں