جنگ کےخاتمے کے لیے دباؤ حماس کی بیخ کنی کی حمایت سے مطابقت نہیں رکھتا: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حماس کے خاتمے کے جنگی مقصد کی حمایت سے متصادم قرار دیا۔

نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک کے رہ نماؤں سے کہا ہے کہ "آپ ایک طرف حماس کے خاتمے کی حمایت نہیں کر سکتے اور دوسری طرف ہم پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ میں ان ممالک سے کہتا ہوں کہ وہ جنگ ختم کرنے کےلیے حماس کو ختم کرنے کے مشن میں ساتھ دیں‘‘۔

ہفتے کے روز نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کے ویٹو کے استعمال کو سراہا۔ امریکی ویٹو نے غزہ میں جنگ بندی کی کوشش ناکام بنا دی۔

نیتن یاہو نے کہا کہ "دوسرے ممالک کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک طرف حماس کے خاتمے کی حمایت کرنا اور دوسری طرف جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ناممکن ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لہذا اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے لیے اپنی منصفانہ جنگ جاری رکھے گا۔ دوسرے جنگی اہداف کو حاصل کرے گا جو ہم نے طے کیے ہیں"۔

اسی تناظرمیں اسرائیل کے کثیر الاشاعت اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے ہفتے کے روز سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کو ٹیلی فون پر آگاہ کیا کہ خان یونس میں فوجی آپریشن مزید 3 سے 4 ہفتے جاری رہے گا۔

امریکی ویب سائٹ ’ایکسیس‘ نے بھی ایک سینیراسرائیلی فوجی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کو توقع ہے کہ خان یونس میں اپنا فوجی آپریشن تین سے چار ہفتوں میں ختم کر دے گا۔

اہلکارنے کہا کہ جنگ کا زیادہ شدت والا مرحلہ مزید تین سے چار ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں