حماس کے خاتمے کے لیے فوجی مہم مزید سخت کرنا ہو گی: اسرائیلی فوجی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں تیسرے ماہ میں داخل ہو چکی اسرائیلی جنگ کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے جنگ میں مزید شدت اور تیزی لانا ہو گی تاکہ دشمن پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔ اس امر کا اظہار اسرائیلی فوج کے سربراہ نے ہفتے کے روز کیا ہے۔

وہ یروشلم میں مغربی دیوار کے نزدیک اپنے فوجیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوجی سربراہ کا یہ خطاب ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قراداد کو ویٹو کیا ہے اور اسرائیل کے لیے مزید اسلحہ سپلائی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکہ کے جنگ بندی کو ویٹو کرنے کو فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم میں امریکہ کا شریک ہونا قرار دیا ہے، جبکہ ترکیہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ویٹو کر کے اپنے آپ کو دنیا میں تنہا ثابت کیا ہے۔ تاہم اس پر اسرائیلی حکومت میں خوشی ظاہر کی جارہی ہے۔

اسرائیلی فوجی سربراہ جنرل ہیرزی حلوی نے کہا ' ہم ہر روز پہلے سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور زیادہ کو زخمی کر رہے ہیں۔یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گرد ہتھیار ڈال رہے ہیں۔'

جنرل نے کہا 'یہ اس بات کی نشانی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک ٹوٹ رہا ہے، اس لیے ہمیں ایسے موقع پر اپنی جنگ کو مزید دباؤ بڑھانے کے لیے تیز کرنا ہو گا، سخت کرنا ہو گا۔'

فوجی سربراہ نے کہا اپنے فوجیوں سے خطاب میں مزید کہا کہ ' اسرائیلی فوج کو ابھی حماس پر اپنا دباؤ بڑھانا ہو گا، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالتے ہوئے دیکھ رہے ہیں،ان کا نظم بکھر رہا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں