سعودی عرب میں گھڑ دوڑ کب شروع ہوئی اور ہم اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی پہلی مملکت، دوسری اور تیسری کے قیام کے دورمیں گھوڑوں اور گھوڑ دوڑ کے مقابلے موجود رہے ہیں۔ شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ہاتھوں میں قائم ہونے والی تیسری سعودی ریاست میں بھی گھوڑوں کو غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی ہے اور یہ اہمیت آج بھی بھرپور انداز میں موجود ہے۔

سعودی عرب کے محقق اور گھوڑوں کے مقابلوں کے ماہر ولید العبیدی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ عبدالعزیزنے مملکت سعودی عرب کو متحد کرنے کے سفر میں جو لڑائیاں لڑیں ان میں گھوڑوں نے اہم کردار ادا کیا۔

شاہ عبدالعزیز کے اپنے کئی گھوڑے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام “ عبیّہ” تھا۔ یہ ان کی محبوب گھوڑای تھی۔ وہ اسی گھوڑی پر سواری کرتے۔ سعودی ریاست کے قیام کے دوران لڑئی جانے والی جنگوں میں گھوڑوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نقطہ نظرسے سعودی عرب نے برسوں پہلے گھوڑوں اور گھڑ سواری کے کھیلوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ سنہ 1384ھ میں کنگ عبدالعزیز سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کا مقصد خالص نسل کے عربی گھوڑوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس مرکز کے تحت شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے خالص نسل کے عربی گھوڑوں کو تربیت دی گئی۔

اس کا نام "دیراب میں عربی گھوڑوں کا مرکز" تھا۔ پھر 1418ھ میں شاہی فرمان جاری ہوا جس کے تحت مرکز کا نام دیراب عربی اصیل گھوڑوں کے مرکز سے بدل کر " کنگ عبدالعزیز سنٹر فار پیور بریڈ عربین ہارسز‘‘ رکھا گیا۔

گھڑ دوڑ

انہوں نے کہا کہ 1385ھ میں شاہی حکم سے سعودی گھڑ سوار کلب کا باضابطہ طور پر دارالحکومت ریاض کے الملز کالونی میں قیام عمل میں آیا جس کا مقصد گھوڑوں کی مسابقتی دوڑ کا انعقاد تھا۔ یہ کلب شاہ عبدالعزیز گھڑ سواری کا میدان الجنادریہ میں 9 مربع کلومیٹر کے رقبے پر قائم کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1990ء میں سعودی گھڑ سواری اور تیر اندازی اسپورٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔سنہ 2016ء میں اس کا نام بدل کر سعودی ایکوسٹرین فیڈریشن رکھ دیا گیا جو کہ مملکت سعودی عرب میں گھڑ سواری کے کھیلوں کے سپانسر ادارہ ہے۔اس کے سربراہ شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود ہیں۔

عالمی موجودگی

العبیدی نے کہا کہ سعودی عرب نے گھوڑوں اور گھڑ سواری کے مقابلوں کے ذریعے نمایاں عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ بین الاقوامی گھڑ دوڑ کی سطح پر شہزادہ خالد بن عبداللہ بن عبدالرحمن کی ملکیت والے گھوڑے (اورجیت) نے 2017 میں دبئی کپ جیتا۔ شو جمپنگ کے بین الاقوامی کھیل کی سطح پر سعودی رائیڈر نے خالد العید نے 2000 کے سڈنی اولمپکس میں شو جمپنگ مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا، اس نے 2018 کے ایشین گیمز میں بھی حصہ لیا اور طلائی تمغہ جیتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی وژن 2030 کے حصول کے لیے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں گھوڑوں اور گھڑ سواریوں کی دلچسپی اور دیکھ بھال میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں