سعودی عرب کی اسرار الشہری باکسنگ ریفری کے میدان میں کیسے پہنچی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی اسرارالشہری نے باکسنگ کی دنیا میں قدم رکھ کر کھیلوں کے اس میدان میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔

اسرار الشہری خود تو باکسنگ نہیں کرتی مگر وہ پہلی بار ریلسلنگ ریفری کے طور پرمنتخب ہوئی ہیں۔

اسرار الشہری نے کم عمری میں باکسنگ میں قدم رکھا اوراپنی کمال مہارت کی بدولت ثابت کیا کہ وہ موئے تھائی کے کھیل میں بین الاقوامی اور مقامی مقابلوں میں ریفری کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس نے اس کھیل میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور کھیل کے مقابلوں میں ریفری کی ذمہ داری حاصل کی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میں باکسنگ کے کھیل کو پسند کرتی تھی کیونکہ میں فطرتاً ایک مسابقتی انسان ہوں جو مقابلے کو پسند کرتا ہے۔ باکسنگ نے مجھے وہ کچھ دیا جو مجھے عزیز ہے۔ جب سعودی عرب کی حکومت نے کھیلوں میں خواتین کے لیے راستہ کھولا تو اس نے باکسنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینا اور مقابلوں میں شرکت کرنا شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے اس شعبے میں مسلسل حوصلہ افزائی کرنے سے مدد ملتی ہے۔ مجھے باکسنگ میں مقابلہ کرنا اور آگے بڑھنا پسند ہے۔ اس کے علاوہ میں اپنے اردگرد موجود لوگوں کی حمایت کرتی ہوں۔ اس کھیل نے مجھے وہ ماحول دیا جس سے میں محبت کرتی ہوں۔ میں نے اس کھیل میں مہارت کے لیے بھرپور محنت کی۔

بین الاقوامی ریفری کے شعبے میں انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں وضاحت کی کہ یہ مشکلات بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے دوران ظاہر ہوتی ہیں، کیونکہ ریفری اور کھلاڑی مختلف سطح کے ہوتے ہیں۔ میں اعلیٰ سطحوں تک پہنچنا چاہتی تھی، کیونکہ عظیم حکمران میدان کو کنٹرول کرتے ہیں"۔

تھائی باکسنگ

تھائی باکسنگ اور دیگر کے درمیان فرق کے بارے میں اس نے کہا کہ "تھائی باکسنگ آٹھ اعضا والی باکسنگ ہے، کیونکہ آٹھ اعضا اسٹرائیکنگ اور اپنے دفاع میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسے پورے جسم کا استعمال کرتے ہوئے لڑائی سمجھا جاتا ہے۔اسٹرائیکنگ پورے جسم پر ہوتی ہے۔اسٹرائیکنگ وینیوز کے قوانین عمر پر مبنی ہوتے ہیں۔ دوسرے فائٹنگ گیمز کی طرح ان کے بالکل مختلف اصول ہوتے ہیں اور فیصلہ کرنے کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے "۔

اسرار نے کہا کہ "میں نے موئے تھائی کے بین الاقوامی اور مقامی ریفری کے طور پر ایک سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے، کلاسیکل باکسنگ میں ایک مقامی ریفری، اور مکسڈ مارشل آرٹس میں مقامی ریفری کی صلاحیت کے علاوہ مجھے موئے تھائی کے میدان میں مکمل تجربہ حاصل ہوچکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تھائی باکسنگ میں پہلی سعودی ریفری کے طور پر وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ درجے پر سعودی خواتین کو تربیت دینے کی خواہاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں