عراق میں امریکی سفارت خانے پر بڑا حملہ، اہلکاروں اور افسران سے تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملوں میں ملوث عناصر کا تعاقب کرنے کا عہد کیا۔

ہفتے کے روز امریکی وزیر دفاع سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے قریب سات مارٹر گولوں سے کیے گئے حملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

عراق میں مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے میڈیا ترجمان یحییٰ رسول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس تناظر میں خطے کی سکیورٹی کے ذمہ دار سکیورٹی فورسز کے افسران اور ارکان کو خصوصی تحقیقاتی کمیٹیوں کے حوالے کیا گیا ہے جن سے غفلت برتنے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آرمڈ فورسز کے کمانڈر انچیف کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والی ٹیم اس ’مجرمانہ‘ فعل کے مرتکب افراد کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ انہیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ملزمان کی نشاندہی کے قریب پہنچنے کا اشارہ

انہوں نے مزید کہا کہ جن عناصر نے ان حملوں کا ارتکاب کیا ہے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ حملہ کرنے والوں کی نشاندہی کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اس حوالے سے فورسز کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ایسی کارروائی کا فوری طور پر مقابلہ کیا جا سکےجس سے سفارتی مشنز نشانہ بنایا جاتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ ایک کال کے دوران السودانی نے اس بڑے حملے میں ملوث افراد کا تعاقب کرنے کا عہد کیا جس نے سفارت خانے کے آس پاس کو 7 مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی اتحادی مشن اور اس کی سہولیات کے اندر موجود سفارتی مشنوں اور کارکنوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

بڑا حملہ

غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حملے میں جمعہ کی صبح تقریباً سات مارٹر گولے بغداد کے بڑے سفارت خانے پر گرے۔ امریکا نے ان حملوں کے پیچھے ایران نواز گروپوں کے ملوث ہونے کا الزام عاید کیا۔

سات اکتوبر کے بعد شام اور عراق میں امریکی تنصیبات پر دسیوں ایسے حملے ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں