فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی شدید بمباری، قحط اور فاقہ کشی کے خطرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے آج اتوار کے روز فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے شمال، جنوب اور وسطی علاقوں میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔ تباہ کن بمباری میں مزید دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔

العربیہ/الحدث کی لائیو تصاویر میں اتوار کی صبح غزہ پر پرتشدد بمباری کے مناظر اور پٹی میں جنگ کے 64ویں دن دھویں کے بادل اٹھتے دکھائے گئے۔ ان حملوں میں خان یونس اور رفح کے درمیان سڑک کو نشانہ بنایا گیا۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ پرتشدد اسرائیلی حملوں میں غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے طیاروں نے دیر البلح اور نصیرات، المغازی اور الزاویدہ کیمپوں پر پرتشدد حملے کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ وسطی غزہ کی پٹی، غزہ شہر کے مشرق میں التفاح اور الشجاعیہ محلوں اور شمالی غزہ کی پٹی کے کئی علاقوں میں شمال میں جبالیہ کیمپ میں ، جنوب میں خان یونس میں پیش قدمی کی کوشش کے دوران قابض فوج نے وحشیانہ بمباری کی۔

دوسری جانب "فلسطینی خبر رساں ایجنسی" نے کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کی طرف سے اتوار کی صبح خان یونس میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ عرب ورلڈ نیوز ایجنسی نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں مرنے والوں میں زیادہ تر بچے تھے۔

دوسری جانب غزہ میں وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے خان یونس میں اردن کے فیلڈ ہسپتال کو گولے سے نشانہ بنایا، جس سے ہسپتال کو نقصان پہنچا، جب کہ اردنی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دریں اثنا مرکزاطلاعات فلسطین نے اتوار کو ٹیلی گرام کے ذریعے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے توپ خانے نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں یورپی ہسپتال کے آس پاس کے علاقے کو نشانہ بنایا۔

العربیہ کےنامہ نگار اور کیمرہ ٹیم نے وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ کے رہائشی چوک پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے مناظر کی عکس بندی کی۔

ہفتے کے روز اسرائیل نے اپنی طرف سے غزہ میں حماس پر اپنے حملے میں "دباؤ کو تیز کرنے" کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں ڈالا جا رہا ہے جب دوسری طر امریکا نےگذشتہ روز غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کردیا تھا۔

القسام نے جواب دیا

القسام بریگیڈز نے کہا کہ وہ غزہ میں ایک عمارت کو اڑانے میں کامیاب رہے جس میں غزہ شہر کے الزیتون محلے میں اسرائیلی فوجیوں نے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ اس حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

القسام بریگیڈز نے مزید کہا کہ اس کے ارکان ایک اسکول کو بوبی ٹریپ دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوگئے جہاں صہیونی فوج کی بڑی تعداد جمع تھی۔ اسرائیلی فوج کے نقصانات کی تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنے زمینی حملے کے آغاز میں شمالی غزہ کی پٹی کے مکینوں کو جنوب کی طرف جانے کو کہا تھا لیکن جنوب میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد اور امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ میں ویٹو کے استعمال کے بعد غزہ کی پٹی میں شہری آبادی کی اموات کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے 1.9 ملین افراد کا ایک بڑا حصہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں چلا گیا ہے جب کہ مصر کے ساتھ سرحد پر واقع رفح کو ایک بہت بڑے پناہ گزین کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

بھوک اور قحط

بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے اقدام کی ناکامی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں خبردار کیا ہے کہ ناکام بنائے گئے مسودہ قرارداد سے "شہریوں کو سانس لینے کا موقع ملتا مگر امریکا نے غزہ کے محصورین کے لیے سکون کا سانس لینے کا موقع ضائع کردیا‘‘۔

تنظیموں نے اپنے بیان میں کہا کہ "غزہ اب عام شہریوں کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ ہے۔ اس میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔" اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے کہا ہے کہ " غزہ میں خوراک کی شدید قلت ہے۔ غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں مایوس اور بھوکے مارے لوگ امداد کی تقسیم کے مراکز میں جمع ہیں مگرانہیں امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں