سعودی عرب میں عمررسیدہ افراد کی تعداد آٹھ لاکھ 61ہزار ہوگئی: ادارہ برائے فیملی امور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں "بزرگ" کیٹیگری کے افراد کی تعداد گذشتہ سال کی مردم شماری میں تقریباً 8 لاکھ 61 ہزار افراد تک پہنچ گئی ہے۔ اس میں سعودی عرب کے باشندوں کے علاوہ مملکت میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کے عائلی امورکی ذمہ دار کونسل نے انکشاف کیا ہے بزرگ افراد کی سب سے زیادہ تعداد مکہ مکرمہ کے علاقے میں ہے جہاں بزرگ افراد کی تعداد اڑھائی لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد ریاض تقریباً دو لاکھ بزرگوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور الشرقیہ تقریباً ایک لاکھ بزرگوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

خاندانی امور کی کونسل کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر میمونہ الخلیل نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ بزرگوں اور نوجوانوں کے درمیان ربط مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے درمیان ثقافتی اور علمی فرق کو کم کیا جا سکے۔

 ڈاکٹر میمونہ الخلیل
ڈاکٹر میمونہ الخلیل

دوسری جانب انہوں نے زور دے کر کہا کہ خاندانی مسائل کی کونسل فی الحال قومی طلاق انڈیکس کا مطالعہ تیار کر رہی ہے۔ اس حوالے سے اس وقت وزارت انصاف اور جنرل اتھارٹی برائے شماریات طلاق کے اعدادو شمار مرتب کرنے کے لیے تعاون کررہےہیں۔

بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی کمیٹیوں کی طرح مردوں کے مسائل سے متعلق کمیٹی کی کمی کے بارے میں ڈاکٹر میمونہ الخلیل نےکہا کہ مذکورہ بالا کمیٹیوں کو ان مخصوص گروہوں کے مسائل پر تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیق کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

ان کے لیے منصوبے اور پروگرام تجویز کرنا اور ایسے پروگرام شروع کرنا جو ان کی حمایت کرتے ہوں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ "سعودی وژن 2030" میں مردوں اور خواتین دونوں کو قابل ذکر توجہ حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں