امداد کی شدید وارننگ:متحدہ عرب امارات یو این کی سلامتی کونسل کےایلچی کورفح لےگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے خبردار کیا تھا کہ محصور فلسطینی انکلیو میں ہزاروں لوگ "بھوکے مر رہے" تھے جس کے چند دن بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک درجن ایلچی پیر کو مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد کا دورہ کرنے والے تھے۔

متحدہ عرب امارات نے رفح کے سفر کا اہتمام کیا - جہاں محدود انسانی امداد اور ایندھن کی ترسیل غزہ تک پہنچ گئی ہے - جبکہ 15 رکنی کونسل متحدہ عرب امارات کی طرف سے تیار کردہ ایک قرارداد پر بات چیت کر رہی ہے جس میں متحارب فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امداد کے لیے "غزہ تک اور اس کے پورے علاقے میں تمام زمینی، سمندری اور فضائی راستوں کے استعمال کی اجازت دیں۔"

یہ غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے زیر انتظام امداد کی نگرانی کا طریقہ کار بھی قائم کرے گا۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ مسودہ قرارداد کو ووٹ کے لیے کب پیش کیا جا سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی اقوامِ متحدہ کی سفیر لانا نسیبہ نے کہا کہ اس دورے کا مقصد "یہ جاننا تھا کہ انسانی بنیادوں پر آپریشنز میں رفتہ رفتہ کس اضافے کی ضرورت ہے جو غزہ میں فلسطینی عوام کی ضروریات کو پورا کرے۔" انہوں نے کہا کہ یہ سلامتی کونسل کا سرکاری دورہ نہیں تھا۔

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں فوری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مجوزہ مطالبے کو گذشتہ ہفتے امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ اس دورے پر اپنا کوئی نمائندہ نہیں بھیج رہا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نیٹ ایونز نے کہا، "امریکہ رفح کی انتہائی مشکل صورتِ حال سے بخوبی آگاہ ہے اور زمینی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا امریکی سفارت کاری "نتائج دیتی رہتی ہے" اور یہ کہ واشنگٹن "واضح ہے کہ مزید امداد کی ضرورت ہے اور انسانی ہمدردی کے وقفوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جس کے دوران یرغمالیوں کو رہا اور امداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔"

فرانس اور گیبون بھی رفح کے دورے پر نمائندے نہیں بھیج رہے۔ اقوامِ متحدہ کے فرانسیسی مشن نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

گوتریس نے اتوار کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، "میں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں انسانی تباہی کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالے اور میں نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا۔ افسوس ہے کہ سلامتی کونسل ایسا کرنے میں ناکام رہی۔"

گوتریس جنہوں نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کو تنازع سے امن و سلامتی کو لاحق عالمی خطرے سے باضابطہ طور پر خبردار کرنے کے لیے غیر معمولی اقدام کیا تھا، لکھا، "لیکن اس سے یہ کم ضروری نہیں ہو جاتا۔ میں وعدہ کرتا ہوں: میں ہار نہیں مانوں گا۔"

جنرل اسمبلی کا ووٹ

عرب اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منگل کو غزہ میں ہوگا۔ سفارت کاروں نے بتایا کہ 193 رکنی ادارہ ممکنہ طور پر ایک مسودہ قرارداد پر ووٹ دے گا جس میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

اکتوبر میں اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں "فوری اور پائیدار انسانی جنگ بندی جس سے دشمنی کا خاتمہ ہو" کا مطالبہ کیا گیا جس کے حق میں 121 اور مخالفت میں 14 ووٹ آئے جبکہ 44 ارکان غیر حاضر رہے-

7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں اسرائیل کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے جواب میں اس نے غزہ پر فضائی بمباری کی ہے، محاصرہ کیا ہے اور زمینی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تقریباً 18,000 افراد جاں بحق اور 49,500 زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی انکلیو کے 2.3 ملین لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکی ہے۔

گوٹیرس نے جمعہ کے روز سلامتی کونسل کو بتایا: "شمال کے آدھے لوگ اور جنوب میں بے گھر ہونے والے ایک تہائی سے زیادہ لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔"

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے برائے انسانی امور نے کہا ہے کہ اتوار کو 100 ٹرک انسانی امدادی سامان لے کر مصر سے غزہ میں داخل ہوئے اور گذشتہ روز بھی یہی تعداد تھی۔

دفتر نے نوٹ کیا کہ یہ 500 ٹرک لوڈز بشمول ایندھن یومیہ اوسط سے "بہت کم" تھا جو 7 اکتوبر سے پہلے ہر کام کے دن میں داخل ہوتے تھے۔

گوٹیرس نے جمعہ کے روز کہا، "انسانی امداد کی مؤثر ترسیل کے حالات اب نہیں ہیں۔ رفح کا کراسنگ پوائنٹ سینکڑوں ٹرکوں کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا اور یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔"

اقوامِ متحدہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ کریم شالوم گذرگاہ کو کھولنے پر زور دے رہا ہے۔ اسرائیل نے اسے معائنہ کاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن غزہ میں داخل ہونے کے لیے نہیں۔ 3 کلومیٹر (2 میل) دور رفح سے غزہ میں داخل ہونے سے پہلے وہاں ٹرکوں کا معائنہ کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کے آنے والے ارکان الجزائر، گیانا، سیرالیون، سلووینیا اور جنوبی کوریا کو بھی مدعو کیا جو البانیہ، برازیل، گیبون، گھانا اور یو اے ای کی جگہ یکم جنوری سے اپنی دو سالہ مدت کا آغاز کریں گے۔ صرف الجزائر نے ایلچی نہیں بھیجا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں