فلسطین اسرائیل تنازع

گرفتار شدہ فلسطینیوں کو نیم برہنہ کرنے پر مذمت مسترد ، یہ معمول کی تلاشی ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر مختلف مقامات سے گرفتار کیے گئے افراد کو نییم برہنہ کر کے ان کی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرنے کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے رد عمل کو مسترد کر دیا ہے۔

فوج نے اتوار کے روز کہا ' یہ اسرائیل میں معمول کی گرفتاریوں اور تلاشیوں کا طریقہ ہے۔ یہ ضروری ہوتا ہے کہ گرفتار کیے افراد کی مکمل جامہ تلاشی کے لیے وہ اپنے کپڑے چیک کرنے کے لیے اتار کر دیں تاکہ دیکجھا جا سکے ان کپڑوں میں کوئی اسلحہ یا بارود تو نہیں چھپایا ہوا۔'

یہ فوٹیج جسے چند روز قبل سامنے لایا گیا ہےاور گرفتار کیے گئے افراد کو نیم برہنہ دکھایا گیا تھا ،ان کے بارے میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ سب حماس کے جنگجو ہیں۔ جبکہ حماس نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

بعض فلسطینیوں نے انفرادی سطح پر بھی ان نیم برہنہ فوٹیجز کو دیکھنے کے بعد فلسطین کے اندر سے اور بیرون ملک سے کہا تھا کہ ان میں ان کے رشتہ دار شامل ہیں اور یہ کہ ان کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

برطانیہ میں قائم ایک صحافتی ادارے 'العربی الجدید' نے ایک شخص کے بارے میں کہا ان نیم برہنہ کیے گئے افراد میں اس کا ایک نمائندہ 'دیا کہلوت' اور اس کے اہل خانہ بھی شامل ہیں جو قابل مذمت ہے۔ بین الاقوامی صحافتی ادارون نے بھی کہلوت کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم اسرائیلی فوج نے ان سب کے اعتراضات کو بشمول حماس کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ عام فلسطینی ہیں اور ان میں حماس کے القسام بریگیڈ کا کوئی فرد نہیں ہے۔

ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے اس فوٹیج کو دیکھنے کے بعد اس کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک فوٹیج بیت لاھیا نامی بستی میں بنائی گئی۔

ایک فوٹیج میں جگہ کا اندازہ نہیں ہو سکا مگریہ ایک فوجی کو بازو نظر آرہا ہے جس سے اندازہ ہوا کہ یہ فوٹیج اسرائیلی فوجیوں نے بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے۔ اسی طرح ایک تیسری فوٹیج میں نیم برہنہ کیے گئے فلسطینیوں کے ساتھ فوجی بھی قریب ہی کھڑے نظر آرہے ہیں۔ نیز ایک جگہ پر کچھ افراد اسلحہ پکڑاتے ہوئے بھی نظر آئے ہیں۔

تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان رئیر ایڈمرل ہگاری نے نیم برہنہ کیے جانے پرسول سوسائٹی کی طرف سے آنے والی تنقید اور غم و غصہ کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے سیاسی دفتر سے وابستہ سینئیر ممبر عزت الشیق نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان نیم برہنہ کیے گئے افراد کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اکثر ایسا ہی کرتی ہے کہ اگر کسی کو گرفتار کرے تو اس خطرے سے بچنے کے لیے کہ ان گرفتار کیے گئے افراد میں سے کسی کے پاس بارود یا اسلحہ تو نہیں انہیں کپڑے اتار کر تلاشی دینے کو کہا جاتا ہے، اگر ان میں کوئی دہشت گرد نہ ہو تو اسے رہا کر دیا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زیر حراست افراد کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔ اس نے اپنے اس سلوک کو بھی بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں