فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوجیوں نے شمالی غزہ کے ہسپتال پر یلغار کر دی: حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے زیرِانتظام غزہ کی پٹی میں وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے منگل کو فلسطینی علاقے کے شمال میں ایک ہسپتال پر چھاپہ مارا۔

وزارت کے ترجمان اشرف القدرہ نے ایک بیان میں کہا، "اسرائیلی قابض افواج کئی دنوں سے محاصرے اور بمباری کے بعد کمال عدوان ہسپتال پر حملہ کر رہی ہیں۔"

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اے ایف پی کی تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

القدرہ نے کہا کہ ہسپتال کے صحن میں فوجی طبی عملے سمیت آدمیوں کو پکڑ رہے تھے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان نے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا، "ہمیں ان کی گرفتاری اور طبی ٹیموں کی گرفتاری یا ان کے قتل کا خدشہ ہے۔"

اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا کہ پیر کو مبینہ طور پر کمال عدوان ہسپتال پر حملے کے بعد شعبۂ زچگی میں دو مائیں جاں بحق ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہسپتال اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں میں گھرا ہوا ہے اور اس کے اردگرد مسلسل تین دنوں سے مسلح گروپوں کے ساتھ لڑائی کی اطلاع ملی ہے۔"

او سی ایچ اے نے کہا، ہسپتال "فی الحال 65 مریضوں کو رہائش دے رہا ہے جن میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں 12 بچے اور انکیوبیٹرز میں چھ نوزائیدہ بچے شامل ہیں۔"

اس نے مزید کہا، "تقریباً 3,000 اندرونی طور پر بے گھر افراد اس سہولت میں پھنسے ہوئے ہیں اور پانی، خوراک اور بجلی کی شدید قلت کے ساتھ انخلاء کے منتظر ہیں۔"

اسرائیلی فوجیوں نے قبل ازیں غزہ میں دیگر طبی سہولیات بشمول الشفاء پر چھاپے مارے ہیں جو علاقے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس وقت شمالی غزہ میں صرف ایک ہسپتال مریضوں کو داخل کرنے کے قابل ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق دو ماہ سے زائد عرصہ قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک غزہ کے 18,200 سے زائد شہری جاں بحق اور تقریباً 50,000 زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں کے جنوبی اسرائیل پر غیر معمولی حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جو غزہ پر فوجی ردِعمل کا سبب بنا۔

اسرائیل اور غزہ میں جنگ میں زیادہ تر ہلاکتیں عام شہریوں کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں