اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال پر دھاوا بول دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ کے 67 ویں دن غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فورسز شمالی غزہ کی پٹی میں کمال عدوان ہسپتال پر دھاوا بول دیا ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق ترجمان اشرف القدرہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسزنے کمال عدوان ہسپتال کا کئی دنوں تک محاصرہ کرنے اور بمباری کرنے کے بعد اس پر دھاوا بول دیا۔

القدرہ نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز اس وقت ہسپتال کے صحن میں طبی عملے سمیت مردوں کو جمع کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ "ہمیں خدشہ ہے کہ انہیں اور طبی عملے کو گرفتار کر لیا جائے گا یا ا نہیں قتل کردیاجائے گا"۔

65 مریض

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے دو خواتین کی ہلاکت کا اعلان اس وقت کیا تھا جب سوموار کو ہسپتال کے میٹرنٹی وارڈ پر بمباری کی گئی تھی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہسپتال اب بھی اسرائیلی فوج اور ٹینکوں میں گھرا ہوا ہے اور اس کے گردونواح میں فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مسلسل 3 دنوں سے لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت ہسپتال میں 65 مریض ہیں، جن میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں 12 بچے اور انکیوبیٹرز میں 6 نوزائیدہ بچے شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 3000 بے گھر افراد اب بھی ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انخلاء کے منتظر ہیں۔ انہیں پانی، خوراک اور توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اسرائیلی فورسز نے اس سے قبل غزہ کی پٹی کے الشفاء اسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں پر دھاوا بول دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق شمالی غزہ میں اس وقت صرف ایک ہسپتال ہے جس میں مریضوں کے عارضی علاج کی سہولت موجود ہے۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ جنگ مسلط کررکھی ہے جس میں اب تک 18 ہزار 205 فلسطینی شہید اور پچاس ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں 70 فی صد بچے اور خواتین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں