اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف جنگ کا اشارہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی کنارے میں تقریباً روزانہ ہونے والے تصادم اور بار بار اسرائیلی دراندازی کے ساتھ ساتھ گرفتاریوں کے واقعات کے جلو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اشارہ دیا کہ وہ مغربی کنارے میں متوازی جنگ شروع ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کرتے۔

انہوں نے کل پیر کواسرائیلی کنیسٹ میں خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی کے ایک خفیہ اجلاس کے دوران کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سکیورٹی اور اسرائیلی فوج کے درمیان جنگ چھڑنے کا منظر نامہ حکومت اور سکیورٹی سروسز کی میز پر ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس امکان کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی منگل کو رپورٹ کے مطابق حکومت غرب اردن میں ممکنہ لڑائی کے لیے تیار ہے۔

اس بند سیشن کے دوران کنیسٹ کے اراکین نے نیتن یاہو سے اس طرح کے منظر نامے کے پیش آنے کے امکان کے بارے میں پوچھا اور انہوں نے جواب دیا کہ "یہ منظرنامہ ہمیں معلوم ہے اور میز پر ہے"۔

لیکن انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت اور سکیورٹی سروسز اس پر بات کر رہی ہیں اور اس کے لیے تیاری کر رہی ہیں تاکہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تو چند منٹوں میں ہیلی کاپٹر فضا میں موجود ہوں گے"۔

اس کے علاوہ اسی نشست میں نیتن یاہو نے فلسطینیوں کے ساتھ اوسلو امن معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے تباہی سے تعبیر کیا۔ بحران میں گھرے وزیرِ اعظم کا خیال تھا کہ "اوسلو معاہدہ بنیادی غلطی تھی۔ یہ معاہدہ سب سے زیادہ صہیونی مخالف اور سب سے زیادہ یہودی مخالف لوگوں نے کرایا تھا‘‘۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آج منگل کے روز جنین شہر میں دوبارہ کشیدگی سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے ڈرون کی مدد سے چار فلسطینیوں کو قتل کردیا۔

7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی کشیدگی پھیل گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق گذشتہ اکتوبر سے اب تک 275 فلسطینی غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں