فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل جنگی قوانین کے مطابق اسلحے کے استعمال سے مستثنیٰ نہیں ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے زور دے کر کہا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکا سے ہتھیار حاصل کرنے والے ممالک انہیں جنگی قوانین کے مطابق استعمال کریں گے۔ اس حوالے سے اسرائیل سمیت کسی کو استثنا حاصل نہیں ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے کانگریس کا جائزہ لیے بغیر اسرائیل کو تقریباً 14,000 ٹینک گولوں کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔

پینٹاگان نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جمعے کو آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے تحت ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 106.5 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ "اسرائیل کو فوری طور پر ٹینک گولہ بارود کی ضرورت ہے، لیکن اس سے بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل تعمیل کے فریم ورک کے اندر کام کرنے کے اس کے عزم کو کم نہیں کیا جائے گا۔"

ملر سے نامہ نگاروں نے پوچھا کہ کیا واشنگٹن انتظامیہ کی طرف سے منظور شدہ روایتی ہتھیاروں کی منتقلی کی پالیسی کے بارے میں اسرائیل کی طرف سے عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے؟۔

محکمہ خارجہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ان ہتھیاروں کا نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیوں، یا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں استعمال ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ملر نے کہا کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور امریکی موقف کو دہرایا کہ وہ اسرائیل پر غزہ جنگ میں عام شہریوں کا نقصان کم کرنے کےلیے دباؤ ڈالتے رہیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں کوئی معلومات اکٹھا کر رہا ہے تو ملر نے جواب دیا: "ہم ہر چیز کی نگرانی کرتے ہیں۔ ہم اسرائیلی حکومت کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں"۔

جیسے جیسے جنگ طویل ہوتی جاری ہے تنازعہ میں امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیسے اور کہاں ہوتا ہے، اس کی جانچ پڑتال بڑھ رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فوجی امداد پر شرائط عائد کرنے یا اس میں سے کچھ روکنے پر غور کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ملر نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکی خصوصی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے ہفتے کے آخر میں اسرائیلیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ان سے کہا کہ وہ غزہ میں انسانی صورتحال کے حوالے سے مزید اقدامات کریں۔

غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ماہ قبل جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 18,205 افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ 49,645 زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے قیدیون کو برہنہ کرنے کا واقعہ انتہائی پریشان کن ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں