فلسطین اسرائیل تنازع

القدس بریگیڈز کا اسرائیلی فوج کو نقصان پہنچانے،اسرائیل کا غزہ میں پیش قدمی کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے پیر کی شام کہا ہے کہ اس نے حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈز کے ساتھ ایک مشترکہ آپریشن میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ یہ جھڑپ شمالی غزہ کی پٹی میں الفلوجا کے علاقے میں اس وقت ہوئی جب فوجی ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے۔

بریگیڈز نے ایک الگ بیان میں مزید کہا کہ انہوں نے شجاعیہ محور میں ایک پیدل فورس کے ساتھ جھڑپ کے دوران دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا اور غزہ کے مشرق میں واقع زیتون محور میں ایک اسرائیلی فوجی بردار ٹرک اور ایک ٹینک کو بھی نشانہ بنایا۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے مطابق القدس بریگیڈز نے بتایا کہ اس کے مزاحمت کاروں نے ایک مکان کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں اسرائیلی فوج نے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں، جس سے اس کے متعدد ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے۔

غزہ میں تباہی
غزہ میں تباہی

السرایا القدس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس کے جنگجو ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو "85 اینٹی آرمر" میزائل سے نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شہر کے مشرق میں التقدم محور میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یو آو گیلنٹ نے پیر کی شام دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج "شمالی غزہ اور غزہ شہر میں مہم کے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے حماس کے جنگجوؤں اور میدان میں موجود رہ نماؤں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگرانہوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو وہ مارے جائیں گے۔

اسرائیل کی جانب سے سفید فاسفورس کے استعمال کی اطلاعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں گیلنٹ نے کہا کہ فوج "بین الاقوامی قانون کے مطابق کام کرتی ہے"۔

گیلنٹ نے اپنی روزانہ کی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ "اسرائیل غزہ کی پٹی میں مستقل طور پر رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ اسرائیل غزہ کی باگ ڈور سنبھالنے کے حوالے سے تمام متبادل امکانات پر بات کرنے کے لیے تیار ہے‘‘۔

دوسری جانب فلسطینی تحریک حماس کے رہ نما محمود مرداوی نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوئی معاہدہ یا ڈیل نہیں ہو رہی ہے۔

مرداوی نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیلی قیدیوں اور زیر حراست افراد کی رہائی پر اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں ہو گی جب تک کہ فائرنگ بند نہیں ہوتی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں