جوامریکی دباؤ کا مقابلہ نہ کرسکے وہ وزارت عظمیٰ کا حق نہیں رکھتا: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں عارضی جنگ بندی کے لیے امریکی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جو شخص اس دباؤ کو برداشت نہیں کرسکتا وہ وزیراعظم بننے کا حق بھی نہیں رکھتا۔

العربیہ/الحدث کے مطابق انہوں نے کنیسٹ کی پارلیمانی امور ، خارجہ اور سلامتی کمیٹی کے سامنے ایک بند کمرہ خفیہ اجلاس میں کہا کہ "کوئی بھی [اسرائیلی] وزیر اعظم جو امریکی دباؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اسے وزیر اعظم کے دفتر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے"۔

نامہ نگار نے منگل کو بتایاکہ انہوں نے اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "بن گوریون ایک عظیم رہ نما تھے، لیکن آخر کار انھوں نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے"۔

اختلاف اور تناؤ

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ چھڑنے سے پہلے ہی نیتن یاہو اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان اختلافات پائے جاتے تھے لیکن غزہ کی حالیہ جنگ نے انہیں مزید بڑھا دیا۔

واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اس بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کا مستقبل کیا ہوگا اور جنگ کے بعد غزہ میں حکومت کون سنبھالے گا۔ موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نے اب تک فلسطینی اتھارٹی کو اقتدار سونپنے سے انکار کیا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ سمجھتی ہے کہ دو ریاستی حل کا نفاذ قریب ہے، جبکہ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ یہ حل دفن ہو چکا ہے اور ناقابل عمل ثابت ہوا ہے۔

حال ہی میں خاص طور پر غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 18,000 سے زیادہ ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ نے عارضی جنگ بندی کی حوصلہ افزائی کی اور قیدیوں کے تبادلے کے نئے معاہدے پر زور دیا، لیکن اس کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

یاد رہے کہ واشنگٹن نے بارہا حماس کے مقابلے میں اسرائیل کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا برملا اظہار کیا ہے۔ امریکا حماس کو بدستور دہشت گرد تنظیم قراردیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں