سعودی عرب اور چین کی سرمایہ کاری امکانات بڑھانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چائنا سعودی سرمایہ کاری کانفرنس کا منگل کے روز آغاز ہو گیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری کانفرنس بیجنگ میں منعقد کی جارہی ہے۔ اس موقع پر سعودی عرب کے سرمایہ کاری وزیر خالد الفالح بھی بیجنگ میں موجود ہیں۔

سرمایہ کاری کانفرنس میں چین اور سعودی عرب کے سینئیر حکام کے علاوہ مختلف سرمایہ کار کمپنیوں کے سربراہان کے علاوہ بڑی بڑی کمپنیوں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ دونوں طرف سے آنے والے شرکاء سرمایہ کاری کے دو طرفہ امکانات کا جائزہ لیں گے۔

چین کے نائب وزیر تجارت لی فی نے اس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا ' چین سعودی عرب کے ساتھ مل کر 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو' پر کام کریں گے۔ اس نئے تجارتی روٹ کا مقصد افریقہ اور یورپ سے جڑنا اور سعودی ویژن 2030 کے منصوبوں کے سلسلے میں پیش رفت کرنا ہوگا۔

خالد الفالح نے اپنی تقریر میں چینی سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالے سے خوش آمدید کہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

سرمایہ کاری کانفرنس میں کلین انرجی، فنانس، انویسٹمنٹ، معدنیات، سیاحت، تفریح، فوڈ سیکورٹی، زراعت اور بار برداری و سفری کے امور سے متعلق منصوبوں پر سرمایہ کاری کے امکانات پر گور کیا جائے گا۔

واضح رہے چین اور سعودی عرب بڑے تجارتی پارٹنرز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ چین سعودی عرب چین کو خام تیل فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 2022 کے دوران 106 ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہوئی جو 2021 کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں