فرانس نے حماس کو ملنے والی فنڈنگ کا راستہ روکنے کے لیے کانفرنس بلا لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس میں اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے لیے حماس کے خلاف ایک اور کانفرنس طلب کر لی گئی۔ اسرائیل سمیت 20 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ مگر اس کانفرنس میں کوئی بھی عرب ملک شریک نہیں ہو گا۔

کانفرنس میں حماس کو ملنے والے فنڈز کے ذرائع ان کے خلاف اقدامات زیر غور آئیں گے۔ اس سے پہلے فرانس جرمنی اور اٹلی کو ساتھ ملا کر یورپی یونین میں حماس اور اس کے حمایتیوں کے خلاف پابندیاں لگوانے کے لیے سر گرم ہے۔ تاہم یہ کانفرنس بلانے کا 'آئیڈیا' خالصتا حماس کو فنڈنگ روکنے کی خاطر ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں نے سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے شروع میں ہی اسرائیل کو دورہ کر کے اسرائیل کے ساتھ کندھا سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

فرانس کے سفارت کار اس سلسلے میں ایک وسیع حکمت عملی کے تحت حماس کو ملنے والے فنڈز کے خلاف مہم چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ملکوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ حماس کی لڑنے کی اہلیت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے اور اسرائیلی فتح کو قریب تر کیا جاسکے۔

فرانسیسی سفارت کاروں کے مطابق کانفرنس میں حماس کے حق میں سوشل میڈیا پر جاری مہم کو بھی الگ سے دیکھا جائے گا۔

فرانس کی وزارت خارجہ کے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹرز کے مطابق فرانسیسی حکام حماس کے خلاف مختلف 'پریزنٹیشنز' پیش کی جائیں۔ جن میں ممکنہ طور پر حماس کی حمایت کے مراکزاور مالی امداد کے ذرائع کے علاوہ پراپیگنڈہ کی اہلیت کے امور پر تجاویز پیش کی جائیں گی۔

علاوہ ازیں امریکہ ، اسرائیل اور فرانس کے حکام کی طرف سے بھی حماس کو مالی اور سماجی و سیاسی سطح پر کاری ضربیں لگانے کے 'پریزینٹیشنز' کی صورت میں مختلف تجاویز اور منصوبے پیش کیے جائیں گے۔ تاکہ ایک ہمہ گیر مہم شروع ہو سکی اور حماس کی حمایت کو روکا جا سکے۔ نیز اس کے خلاف پابندیوں کو عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔

کانفرنس کے شروع میں اسرائیل کی طرف سے حماس سے خطرے کے موضوع پر 'پریزنٹیشن 'پیش کیا جائے گی۔

حماس کے خلاف تشویش رکھنے والے ملکوں کے مطابق حماس خیراتی اداروں کے علاوہ اپنے دوست ملکوں اور حامیوں گروہوں کے ہاں سے مالی امداد وصول کرتی ہے ، یہ فنڈزنگ ان ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی کے طریقہ بھی آتی ہے۔

ایک سفارت کار نے عرب ملکوں کی شرکت کے بارے میں کہا وہ بھی شرکت کرتے تو عجیب سی بات لگتی۔ ان سفارتی حکام کے مطابق عرب ملکوں کے علاوہ ترکیہ کو بھی نہیں بلایا گیا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کی عدم شرکت کیوں عجیب لگتی۔

اس طرح فرانس کی میزبانی میں ہونےوالی یہ کانفرنس عملاً مسلمان ملکوں کے بغیر ہو گی۔ اس میں صرف اسرائیل کے وہ دوست آئیں گے جو مسلمان ملکوں کے علاوہ ہیں اور حماس کے خلاف اسرائیل ہی طرح کی رائے رکھتے ہیں۔

سفارتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بدھ کے روز اس کانفرنس ' آن لائن' دہشت گردی اور پھیلا جانا والا حماس کے حق میں مواد زیر بحث ہو گا تاکہ اس کا سد باب کیا جا سکے۔ کانفرنس حماس کے خلاف داعش والی حکمت عملی اور 'آئیڈیاز' کو بروئے کار لانے کا رجحان رکھتی ہے۔

تاکہ اسے تمام معاشروں میں مکمل طور پر ناقابل قبول اور ناقابل برداشت بنا دیا جائے۔ اس حوالے سے مغربی ممالک کے علاوہ مسلم ممالک کے لیے بھی منصوبے پیش کیے جائیں گے تاکہ ہر جگہ حماس کی مالی و سیاسی اور اخلاقی حمایت کم کی جا سکے۔

تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی عالمی سطح پر ' گڈ ول' کے معاملات بہتر کرنے کے لیے کیا سفارشات پیش کی جارہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں