"زمین پر جہنم"، غزہ کے بدقسمت بے گھر لوگ سڑکوں پر رہنے پرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں انسانی حالات اس درجے ابتر ہوچکے ہیں کہ غزہ کو دنیا میں ’جھنم‘ سے بھی بدتر جگہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے غزہ کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "افسوسناک اور جہنمی حالات" کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ غزہ کے محصور جنگ زدہ بدقسمت لوگ تین ماہ سے اس جھنم میں رہ رہے ہیں۔

منگل کو پٹی کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ ’’غزہ کے لوگ گلیوں اور سڑکوں پر رہ رہے ہیں اور ہر چیز کے محتاج ہیں"۔ انہوں نے اس صورتحال کو "زمین پر جہنم" قرار دیا۔

"نہ ختم ہونے والا المیہ"

انہوں نے مزید کہا کہ محصور پٹی میں فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک "گہرا اور نہ ختم ہونے والا المیہ" ہے۔

انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "لوگ ہر جگہ ہیں، وہ سڑک پر رہتے ہیں، اور انہیں ہر چیز کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے گھر فلسطینی شہری صرف سلامتی اور تحفظ اور اس جہنم کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

1.9 ملین بے گھر ہوئے

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’UNRWA‘ نے 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی کے اندر تقریباً 1.9 ملین لوگوں کے بے گھر ہونے کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل کی طرف سے محصور غزہ کی پٹی کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہو گئی ہے۔

’اونروا‘ سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے گذشتہ مہینوں اور ہفتوں میں بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے ہر قسم کی انسانی امداد، خوراک اور طبی امداد کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ وبائی امراض اور بیماریوں کے پھیلنے کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں