فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل-حماس جنگ سے فلسطینی معیشت بری طرح متأثر: عالمی بینک

فلسطینی علاقہ جلد بھوک اور بیماری کی زد میں ہو گا: اقوامِ متحدہ اور امدادی ایجنسیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی بینک نے منگل کو کہا کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ فلسطینی معیشت کو شدید متأثر کر رہی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اس سال اور اگلے سال شدید اقتصادی تنگی کا امکان ہے۔

عالمی بینک نے ایک بیان میں کہا، "مستقل اثاثہ جات کو پہنچنے والے نقصانات، رفتار اور نقصان کی حد اور فلسطینی علاقوں میں آمدنی کی روانی میں کمی بے مثال ہے۔"

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق تنازعہ جس کا اب تیسرا مہینہ جاری ہے، اس کے نتیجے میں غزہ میں 18,400 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

یہ تشدد 7 اکتوبر کو حماس کے سرحد پار حملوں سے شروع ہوا جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کے قریب یرغمالیوں کو غزہ لے جایا گیا۔

اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ کے 2.4 ملین افراد میں سے 1.9 ملین جنگ کی وجہ سے بے گھر ہیں جن میں سے نصف بچے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور امدادی گروپوں کو خدشہ ہے کہ فلسطینی سرزمین جلد ہی بھوک اور بیماری کی لپیٹ میں آجائے گی اور وہ اسرائیل سے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوششوں کو بڑھانے کی درخواست کر رہے ہیں۔

منگل کو شائع ہونے والے ایک نئے تجزیئے میں ورلڈ بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ نومبر کے وسط تک معلومات اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کے تقریباً 60 فیصد حصے کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کی سہولیات کو نقصان پہنچا یا تباہ ہو گئی ہیں۔

اور کامرس سے متعلقہ 70 فیصد انفراسٹرکچر تباہ یا مفلوج ہو چکا تھا۔

تمام بنیادی، ثانوی اور ثلاثی درجے کی سڑکوں میں سے بھی تقریباً نصف کو نقصان پہنچا یا تباہ ہو گئیں اور نصف ملین سے زیادہ لوگ تنازعات کی وجہ سے بغیر گھر کے رہ رہے تھے۔

عالمی بینک نے کہا کہ فوری انسانی قیمت کے علاوہ اسرائیل-حماس تنازع نے فلسطینی معیشت کو بھی شدید متأثر کیا ہے۔

فلسطین کے مرکزی ادارۂ شماریات کے مطابق مجموعی فلسطینی معیشت میں غزہ کا حصہ جس میں مغربی کنارہ بھی شامل ہے، پہلے ہی 2005 میں تقریباً 36 فیصد سے کم ہو کر گذشتہ سال صرف 17 فیصد رہ گیا تھا۔

7 اکتوبر کو حماس کے حملوں پر اسرائیل کے شدید ردِعمل نے غزہ کی بے روزگاری کی شرح کو تقریباً 85 فیصد تک بڑھا دیا ہے جبکہ اس کے مغربی کنارے کے فلسطینی کارکنان کے لیے دروازے بند کرنے کے فیصلے نے تقریباً 200,000 افراد کو کام سے محروم کر دیا ہے۔

اقتصادی اعداد و شمار میں غزہ کی چھوٹی شراکت کے باوجود عالمی بینک اب توقع کرتا ہے کہ اس سال فلسطینی معیشت 3.7 فیصد سکڑ جائے گی جو اس کی جنگ سے پہلے کی 3.2 فیصد اضافے کی پیش گوئی سے خاصی کم ہے۔

اگلے سال صورتِ حال مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔

جبکہ ورلڈ بینک نے پہلے 2024 میں 3.0 فیصد نمو کی توقع کی تھی، اب وہ 6.0 فیصد کی مجموعی تنگی کی توقع کرتا ہے - اس مفروضے پر کہ اگلے سال تنازع کی شدت میں کمی آئے گی۔

اگر جنگ جاری رہی تو معاشی اثرات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

بینک نے کہا، "جنگ کے آغاز کے بعد اکتوبر میں غزہ میں قیمتوں میں اوسطاً 12 فیصد کا اضافہ ہوا جو "مقامی منڈیوں میں مشکل سے دستیاب مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب" کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کے برعکس مغربی کنارے میں صارفین کی افراطِ زر میں اسی مدت کے دوران صرف 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔

تنازعہ کے جواب میں عالمی بینک نے منگل کو "غزہ کے متأثرین کو ہنگامی امداد" فراہم کرنے کے لیے مالی امداد کی نقاب کشائی کی۔

ترقیاتی قرض دہندہ نے طبی نگہداشت، انسانی ضروریات، اور محصور فلسطینی علاقے میں کھانے کے واؤچرز اور پارسلز کے لیے 20 ملین ڈالر کے اضافی فنڈز کا اعلان کیا۔

اس نے مزید کہا کہ یہ رقم اس 15 ملین ڈالر کے علاوہ ہے جو پہلے فراہم کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں