فلسطین اسرائیل تنازع

جوبائیڈن کا بیان عمل میں ڈھلنا چاہیے: پی ایل او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطینی اتھارٹی کی حکمران جماعت پی ایل او نے امریکی صدر جوبائیڈن کی فلسطین کے بارے میں تازہ گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو اب عمل کے قالب میں ڈھالا جانا چاہیے اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا اعلان سامنے آنا چاہیے۔

یہ مطالبہ پی ایل او کے سیکرٹری جنرل پی ایل اور حسین الشیخ نے ' ایکس ' پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔

حسین الشیخ نے کہا 'نہ صرف یہ کہ اس بیان کو عملی شکل دی جائے بلکہ ایک ایسا جامع سیاسی منصوبہ بھی پیش کیا جائے جسے بین الاقوامی قانون کی حمایت حاصل ہو، جس کے نتیجے میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ختم ہو سکے اور آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو سکے۔

واضح رہے پی ایل او سب سے پرانی اور وہ فلسطینی جماعت ہے جس نے 1993 میں اوسلو میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر کے مزاحمت سے دستبرداری کر لی تھی۔

اس اوسلو معاہدے کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے بجائے فوری طور پر فلسطیینیوں کو فلسطینی اتھارٹی دے دی گئی۔ اب پی ایل او اس فلسطینی اتھارٹی کی حکمران ہے۔ جسے اسرائیل اور امریکہ سب کے ہاں تسلیم کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں