فلسطین اسرائیل تنازع

حماس جنگجو سے مصافحہ کرنے والی اسرائیلی خاتون باقی یرغمالیوں کے حوالے سے مایوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تقریباً دو ماہ قبل حماس کی طرف سے رہا کی گئی پہلی کھیپ میں شامل 85 سالہ خاتون سماجی کارکن یوچوڈ لیفشٹز ایک بار پھر نمودار ہوئی ہیں۔ لیفشٹز نے رہائی کے بعد حماس کے ایک جنگجو سے مصافحہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہ اسرائیلی حلقوں میں تنقید کی زد میں آ گئی تھیں۔

انہوں نے ایک بیان میں حماس کے ہاتھوں میں قید باقی اسرائیلی قیدیوں کے بارے میں اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ ابھی تک حماس کی قید میں ہیں ان کے زندہ بچ جانے کا امکان ختم ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی ٹی وی NBC نیوز کے مطابق لفٹشز جن کے شوہرعودید 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں ہیں نے کہا کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "انہیں آج ہی نکل جانا چاہیے، ورنہ وہ زندہ نہیں رہیں گے"۔ ان کا اشارہ ان درجنوں اسرائیلیوں کی طرف تھا جو ابھی تک حماس کے ہاتھ میں ہیں۔

"ہوا کی کمی"

سابق قید نے غزہ میں حماس کی حراست کے دوران درپیش حالات کے بارے میں بات کی۔ جنہیں اسے دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک قید رکھا گیا۔ اس کی ایک تاریک تصویر پینٹ کی کہ وہاں کے باقی قیدیوں کو کیسے حالات سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی قیدی یوشیوڈ کو رہا کر دیا گیا۔
اسرائیلی قیدی یوشیوڈ کو رہا کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سرنگوں میں ہوا کی کمی، خوراک اور ادویات کی کمی کے علاوہ قیدیوں کے لیے کئی دوسری پریشان کن چیزیں ہیں۔

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس مسئلے میں عالمی دلچسپی کم ہو جائے گی اور حماس پر ان کی رہائی کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں کمی آئے گی۔

ان کی بیٹی کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے اہل خانہ کو لگتا ہے کہ یہ ہفتہ سب سے اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ "اگر آنے والے دنوں میں ان میں سے کچھ کو رہا نہ کیا گیا تو ان میں سے زیادہ تر مار ےجائیں گے"۔

قابل ذکر ہے کہ 23 اکتوبر کو رہا ہونے والی لفشٹزنے اسرائیل میں اس وقت ہلچل مچا دی جب اس نے اپنی رہائی سے قبل ریڈ کراس کے حوالے کرنے کے دوران حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کے ایک رکن سے مصافحہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں